ايرانی كی قرآنی ثقافت كی توسيع كونسل كے سيكرٹری اور نائب صدر حجت الاسلام والمسلمين حميد محمدی نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كے دوران ايرانی صدر كی موجودگی میں اس كونسل كے اجلاس كے منظور شدہ قوانين كی وضاحت كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس اجلاس میں ملك كی قرآنی ذمہ داريوں كی تقسيم اور كونسل كی كميشنز منظور ہوئے اور قرآنی ثقافت كی توسيعی كونسل نے مندرجہ ذيل ۹ شقوں كی منظور دی ہے۔
پہلی شق: ملك میں قرآنی تعليم كی ذمہ داری وزير تعليم كے عہدہ پر ہے۔
دوسری شق: ملك كی ہائيرايجوكيشن اور تحقيق كی ذمہ داری وزير علوم، تحقيقات اور ٹيكنيكل، وزير صحت كے عہدہ پر ہے۔
تيسری شق: ملك میں قرآنی تبليغی سرگرميوں كی ذمہ داری وزير ثقافت و ارشاد اسلامی كے عہدہ پر ہے۔
چوتھی شق: قرآن كريم كی عام تعليم میں وزارت تعليم كی ذمہ داريوں كو انجام دينے كے لیے اس وزارت خانے میں تعليم قرآن كے لیے ايك قرآنی ادارے كا افتتاح كيا جائے گا۔
پانچویں شق: وزارت علوم و تحقيقات وٹيكنيكل اور وزارت صحت كی قرآنی سرگرميوں كی انجام دہی كے لیے تحقيقاتی ادارے كی قرآنی تحقيقاتی ادارہ اور تعليمی ادارے كا قرآنی تعليمی ادارہ دو وزارت خانے تشكيل دے گا۔
چھٹی شق: وزارت ثقافت وارشاد اسلامی كی قرآنی سرگرميوں كی انجام دہی كے لیے اس وزارت كا قرآنی ادارہ تشكيل ديا جائے گا اس كے علاوہ ديگر شقیں بھی منظور كی گئی ہیں۔
حجۃ الاسلام محمدی نے مزيد كہا ہے كہ ايرانی صدر نے اس اجلاس كےاختتام پر قرآنی ثقافت كے توسيعی منشور كی تدوين كرنے والوں كا شكریہ ادا كرتے ہوئے كہا ہے كہ اسلامی جمہوریہ كے نظام میں قرآن كريم كا ايك خاص مقام ہے اور ملك كا نظام اداری اور اجرائی آہستہ آہستہ قرآن كے مقابلے میں اپنی ذمہ داريوں سے آگاہ ہو جائے گا جو ايك با بركت چيز ہے۔
481835