ياد خدا كے علاوہ دعا سياسی و سماجی اثر بھی ركھتی ہے

IQNA

ياد خدا كے علاوہ دعا سياسی و سماجی اثر بھی ركھتی ہے

13:12 - November 08, 2009
خبر کا کوڈ: 1846238
قرآنی سرگرمياں گروپ: خدا كو ياد كرنے كےعلاوہ دعا سياسی و سماجی اثر بھی ركھتی ہے حقيقی دعا فقط خدا كو ياد كرنا اور اس كی بارگاہ میں اظہار ضرورت نہیں ہے بلكہ دعا كرنے والے كے ہمراہ كوشش كرتا ہے خداوند متعال كے حضور ادب بجالائے اور یہ چيز شريعت اور اس كے دستورات پر عمل كے علاوہ ميسر نہیں ہے۔
جنوبی خراسان میں يونيورسٹی كے پروفيسر "حميد رضوی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ ادعیہ، انسان كو ظلمت سے نجات ديتی ہے اور تمام خيرات اور نيكياں اہل ذكر اور اہل نماز مومنين كے لیے ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ دعا ايك سياسی اور تربيتی اثر ركھتی ہے اثر كے علاوہ دعا ملك كے نظام كو چلانے كے لیے انسان كو كمال مطلق پر پہنچانے كے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
رضوی نے مزيد كہا كہ ہر مسلمان، مومن شمار ہوتا كيونكہ ايمان، اسلام كا درجہ شمار ہوتا ہے اور قرآن كريم نے ايمان كے لیے كچھ شرائط مقرر كی ہیں۔ انہوں نے آخر میں كہا كہ دعا انسان كو نماز، روزہ، حج، زكوۃ، جہاد، امربالمعروف ونہی عن المنكر اور خدا كی راہ میں خرچ كرنے جيسے صالح اعمال كی طرف دعوت ديتی ہے۔
488923

نظرات بینندگان
captcha