بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "Islam Online" سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ملائيشيا كی قانون نافذ كرنے والی قومی آرگنائزيشن كے شعبہ جوان كے سربراہ "خيری جمال الدين" نے اس خبر كی وضاحت كرتے ہوئے كہا ہے كليساوں پر حملہ ايك ناپسنديدہ عمل ہے اور اس كی وجہ سے مختلف اديان كے پيروكاروں كے درميان نفرت پيدا ہو گی۔
انہوں نے عبادت كے تمام مقامات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ دين مقدس اسلام میں تمام اديان كے پيروكاروں كے احترام كی تاكيد كی گئی ہے۔
گزشتہ دو روز میں ملائيشيا كی عدالت عظمی كی رائے پر ناراضگی كا اظہار كرتے ہوئے اس ملك كے مختلف علاقوں میں موجود ۴ كليساوں پر حملہ كيا گيا تھا اور گزشتہ روز بھی ہزاروں ملائيشين مسلمانوں نے عدالت كے اس فيصلے پر اعتراضات كرتے ہوئے مظاہرہ كيا ہے۔
521419