بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے خبررساں ايجنسی "panet.co.il" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ الفرقان قرآنی انسٹیٹيوٹ كے انچارج جناب "غازی عيسی" نے كہا ہے كہ فلسطين میں قرآنی كلچر كو فروغ دينے كی خاطر اس جريدہ كی اشاعت كی گئی ہے۔
انہوں نے كہا اس وقت فلسطين میں مختلف موضوعات پر مجلہ جات موجود تھے ليكن قرآنی كلچر كے نشنگان كے لئے كوئی معقول جريدہ موجود نہ تھی اور اس كی ضرورت شدت سے محسوس كی جا رہی تھی۔
انہوں نے كہا كہ جريدہ كا نام "كنوز" اس لیے ركھا گيا ہے كہ اس میں مختلف قرآنی موضوعات پر بحث كی گئی ہے۔
627826