زيكشھر كے مذہبی امور كے ماہر حجت الاسلام سلطانی نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے شعبہ سيستان و بلوچستان كے ساتھ گفتگو كے دوران سورہ مباركہ شوریٰ كی ۲۳ ویں آيت كی تفسير میں كہا : اس آيت میں نماياں ترين نيكی يعنی محبت اہل بيت (ع) كی طرف اشارہ كيا گيا ہے چونكہ اس آيت میں "لااسئلكم" كے بعد بلافاصله «و من يقترف حسنه» آيا ہے ۔
انہوں نے مزيد وضاحت كی : اگرچہ حسنہ بطور مطلق آيا ہے اور نماز ، روزہ وغيرہ كو بھی شامل ہو سكتا ہے ليكن چونكہ حسنۃ جملہ "لا اسئلكم" كے بعد آيا ہے اس لیے اس حسنہ كا مصداق كامل اہل بيت (ع) كے ساتھ دوستی اور محبت ہے ۔
788010