فكر و علم گروپ : آيت اللہ العظمیٰ صافی گلپائيگانی نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا قرآنی مقابلوں میں خواتين كی قرائت جبكہ مرد حضرات بھی تشريف فرما ہوں ؛ جائز ہے ؟ كے جواب میں كہا : قرائتوں كی كيفيت ، لہجوں كی كيفيت اور جو شخص قرائت كر رہا ہے اس كی كيفيت مختلف ہے ؛ بعض قرائتوں اور لہجوں سے فساد و فتنے كا انديشہ رہتا ہے ، اس لیے ان موارد میں احتياط ضروری ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كے شعبہ حوزہ علمیہ كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ العظمیٰ صافی گلپائيگانی نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا قرآنی مقابلوں میں خواتين كی قرائت جبكہ مرد حضرات بھی تشريف فرما ہوں ؛ جائز ہے ؟ كے جواب میں كہا : قرائتوں كی كيفيت ، لہجوں كی كيفيت اور جو شخص قرائت كر رہا ہے اس كی كيفيت مختلف ہے ؛ بعض قرائتوں اور لہجوں سے فساد و فتنہ كا انديشہ رہتا ہے ، اس لیے ان موارد میں احتياط ضروری ہے ۔
آيت اللہ العظمیٰ صافی گلپائيگانی نے مزيد كہا : یہ مسئلہ اس قدر پيچيدہ ہے كہ بعض بزرگوں سے خواتين كو سلام كرنے میں پہل نہ كرنے كے سبب كے بارے یہ منقول ہے : ہمیں انديشہ ہے كہ كہیں سلام كرتے وقت ہمیں ان كی آواز بھانے نہ لگے ۔ (اخاف ان تعجبنی صوتها).
802697