شيعوں كو قرآن كريم كے ترجمے كے لیے كئی گنا زيادہ بلند ہمتی دكھانی ہو گی

IQNA

ہندوستان كے شيعہ محقق؛

شيعوں كو قرآن كريم كے ترجمے كے لیے كئی گنا زيادہ بلند ہمتی دكھانی ہو گی

0:00 - July 05, 2011
خبر کا کوڈ: 2148997
بين الاقوامی گروپ : مسلمانوں كو ہر سال قرآن كريم كے تراجم اور تفاسير مختلف زبانوں میں پيش كرنے چاہئیں اور بالخصوص شيعان اہل بيت (ع) كو اس ميدان میں كئی گنا زيادہ بلند ہمتی سے كام كرنا چاہئیے ۔
ہندوستان كے معروف محقق اور عالم دين سيد شھوار حسين نقوی امروہوی ہندی نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے مزيد كہا : قرآن كريم ايك ايسا بحر بيكراں ہے كہ جس میں جو شخص بھی غوطہ زن ہو اسے جديد اور ناياب گوہر ملتے ہیں ۔ اس بنا پر لازم ہے كہ ہر سال نئے لوگ قرآن كريم كا ترجمہ اور تفسير لكھنے كی سعی كریں جبكہ شيعان حيدر كرار كو اس ميدان میں ہر اول دستہ ہونا چاہئیے ۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہندوستان میں فارسی ، پنجابی ،كشميری ، ہندی اور فارسی زبان میں قرآن كريم كے ترجمے موجود ہیں البتہ اہل سنت نے تقريبا تمام رائج زبانوں میں قرآن كريم كے ترجمے كیے ہیں ۔
819151
نظرات بینندگان
captcha