فكر و علم گروپ : آيتالله العظمی علوی گرگانی نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا روايت «اقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها» سے لزوم ثابت ہوتا ہے اور قرآن كريم كو عربی لحن كے علاوہ پڑھنا اشكال ركھتا ہے ؟ كے جواب میں فرمايا : اس روايت میں تاكيد "ارشاد "اور "تشويق "كے باب سے ہے اور اس سے لزوم و وجوب ثابت نہیں ہوتا ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ( ايكنا ) كے شعبہ حوزہ علمیہ كی رپورٹ كے مطابق آيتالله العظمی علوی گرگانی نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا روايت قال رسول الله(صلی الله عليه و آله): «اقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها» (جامع الاخبار و الآثار/ جلد1) سے لزوم ثابت ہوتا ہے اور یہ شرعی حجت محسوب ہو گی اور قرآن كريم كو غير عربی لحن كے ساتھ پڑھنا اشكال ركھتا ہے ؟ كے جواب میں واضح كيا : اس روايت میں تاكيد ارشاد اور تشويق كے باب سے ہے اور یہ روايت عربی لحن میں قرائت كا لزوم اور وجوب ثابت نہیں كرتی ؛ اگرچہ عربی لحن میں درست اور زيبا قرائت كی نصيحت كی گئی ہے ۔
823928