ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے لبنان سے نكلنے والے اخبار روزنامہ «الحياة» كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ معمر قذافی كے بعد ليبيا كی گزشتہ حكومت كے طاقتور ترين شخص عبد السلام جلود نے خيال ظاہر كيا : بعيد نہیں ہے كہ امام موسی صدر كو قذافی كے حكم پر قتل كر كے نا معلوم مقام پر دفن كر ديا گيا ہو چونكہ معمر قذافی ايران كی جانب سے علمائے دين كو تبليغ كے لیے ليبيا روانہ كرنے اور عرب دنيا میں شيعوں كے نفوذ سے سخت خوفزدہ تھا ۔
عبد السلام جلود جو اٹلی كے دار الحكومت روم میں جلا وطنی كی زندگی گزار رہا ہے ، نے بين الاقوامی اخبار روزنامہ الحياۃ سے بات چيت كرتے ہوئے كہا : ميری عقل كہتی ہے كہ امام موسی صدر بقيد حيات نہیں ہے چونكہ ان كا زندہ ہونے كے باوجود ابھی تك روپوش رہنا بہت بعيد ہے ۔
895501