فلسطينی اتھارٹی كے سربراہ محمود عباس اور صیہونی حكام كے درميان كل ۳ جنوری كو اس حال میں ملاقات ہوئی كہ فلسطينی گروہوں بالخصوص حماس نے اسے بے فائدہ قرار ديا ہے ۔
ايك ايسی صورتحال كے دوران یہ ملاقات كہ جب قدس كو یہودی سازی كے سنگين خطرے كا سامنا ہے اور دوسری جانب سے یہودی بستيوں كی تعمير و توسيع بھی پورے زور و شور سے جاری ہے ، بہت سے ابہامات پيدا كر رہی ہے ۔
مصر كے سابق معزول صدر حسنی مبارك كے بعد اردن كی كٹھ پتلی حكومت كو یہ موقع ملا ہے كہ اسرائيل اور محمود عباس كے درميان پل كا كردار ادا كرے اور اس طرح سے امريكہ و اسرائيل كی خوشنودی حاصل كرے ۔
داوود عظيمی
928805