قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق " saphirnews "اس ويب سائٹ سے نقل كيا ہے كہ فرانس كی اسلامی كونسل كے تحت ، اسلام كی نگرانی كرنے والی كمیٹی كے سربراہ نے اعلان كيا ہے كہ تحقيقاتی نتائج كے بعد اسلام كی مخالفت میں مختلف قسم كے اقدامات جيسے مساجد اور دينی مراكز پر حملہ، مسلمان شہريوں پر حملہ ، نماز جماعت كے دوران خلل ڈالنے كے واقعات اور فرانسيسی ميگزين میں پيغمبر اكرم(ص) كی شخصيت كی توہين آميز تصاوير كی اشاعت، 2010ء كی نسبت 2011ء میں 34 فيصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ فرانس سيكورٹی اداروں كی رپورٹ كے مطابق 2010 میں صرف 116 شكايات مسلمانوں نے عدالت میں پيش كی تھیں۔ جبكہ 2011 میں 155 مورد شكايات اسلام كی مخالفت میں عدالت میں پيش كی گئی ہیں كہ یہ رپورٹ 34 فيصد گذشتہ سال كی نسبت اضافہ كی تصديق كرتی ہے۔
كمیٹی كے سربراہ نے تاكيد كی كہ اس كمیٹی كی طرف سے دسمبر 2011ء میں فرانس كے صدر نيكلس ساركوزی كو خط ارسال كيا گيا اس خط میں یہ تقاضا كيا گيا كہ ايسی تدابير اختيار كرے جس سے مسلمانوں كی پريشانی میں كمی ہوسكے اور مسيحيت اور یہوديت كی نسبت مسلمانوں كی قليل تعداد كو مدنظر ركھتے ہوئے ان كو تحفظ فراہم كيا جائے۔
946117