ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "businessnews"سے نقل كيا ہے سلفيوں نے حكومتی مراكز اور دوسری سياسی جماعتوں كے دفاتر پر حملے كے ہیں، اس سلسلے میں تيونس كے انتظامی اصلاحات كے وزير نے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ بن علی سلفيوں كو حكومتی امور میں مداخلت نہیں كرنے ديتا تھا اور انہیں جوسرں میں بند كركے ركھا ہوا تھا۔
عوامی انقلاب كے بعد انہیں جيلوں سے رہائی ملی حالانكہ بن علی حكومت كے سقوط میں ان كا كوئی كردار نہیں ہے۔ انہوں نے مزيد كہا جب تيونس كے عوام سڑكوں پر مظاہرے كررہے تھے اور حكومتی بد ترين تشدد كو تحمل كررہے تھے اس وقت سلفيوں نے عوام كی مدد كے بجائے عراق میں تبليغی دوروں میں مصروف تھے اور عوامی انقلاب كی كاميابی میں بھی كوئی مدد نہیں كی۔لہٰذا سلفيوں كو عوامی انقلاب كا احترام كرنا چاہئے۔
960317