بين الاقوامی گروپ : گزشتہ تين دہائيوں كے دوران دنيا بھر میں جمہوريت كی ترقی امريكہ كی بنيادی سياسيت میں تبديل ہو چكی ہے ۔ درحقيقت امريكہ كے سابق صدر "جيمی كارٹر" نے اس ايجنڈے كی مکمل حمايت كی تھی اور رونالڈ ريگن نے اس ايجنڈے كو سرد جنگ كے دوران اسلحے كے طور پر استعمال كيا تھا جبكہ اس كے بعد وائیٹ ہاؤس میں سكونت اختيار كرنے والے ہر صدر نے جمہوريت كی ترقی كے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات كیے ہیں البتہ ان میں سے كوئی بھی جارج بش كی طرح جمہوريت كا شوقين نہیں تھا ۔
جمہوری ايجنڈے میں شامل بعض پروگرام عرب ممالك كی جانب سے مورد تنقيد قرار پائے ہیں درحالنكہ ڈيموكریٹك پارٹی كے ناقدين نے بارك اوباما كی حكومت كو شديد تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے واضح كيا ہے كہ اس حكومت نے نہ صرف یہ كہ جہان عرب میں جمہوريت كے قيام كے لیے مطلوبہ كوششیں نہیں كیں بلكہ سرحد پار جمہوری عمل كے لیے كی گئی امريكی كوششوں كے دفاع كے لیے بھی كوئی خاطر خواہ اقدامات انجام نہیں ديئے ہیں ۔
درحقيقت جمہوريت كی ترقی كے حامی اپنے نظریے كے اثبات كے لیے بعض مباحث كو پيش كرتے ہیں جيسے ؛ "جمہوريت كا ارتقاء ہمارے مفاد میں ہے " يا "یہ ہماری ذمہ داری ہے كہ انسان كے مقام كو بہبود بخشیں" ، یہ موضوعات تمام ان امريكی مخاطبين كے لیے جذاب ہیں جو "ہمارے ارمان " پر مبنی ہر نعرے كا خير مقدم كرتے ہیں ۔
988945