مصری وہابيوں كی انتہا پسند سياست اسرائيل كے مفاد میں ہے

IQNA

مصری وہابيوں كی انتہا پسند سياست اسرائيل كے مفاد میں ہے

23:53 - May 04, 2012
خبر کا کوڈ: 2318099
بين الاقوامی گروپ : مصر میں جسیے جيسے صدارتی انتخابات نزديك آ رہے ہیں سياسی جماعتوں اور گرپوں كے درميان تقابلی جائزے بھی بڑھ گئے ہیں كيونكہ ان میں سے ہر كوئی پس پردہ اور چاپلوسی كے ذريعے ووٹیں جمع كركے اقتدار میں بیشتر نفوذ پیدا كرنا چاہتا ہے اور ان سب كے درمیان فوجی اور اسلام پسند طاقتیں اپنی تاريخی پس منظر كی وجہ سے دوسرے گروپوں پر برتری ركھتی ہیں ۔
مصر میں اسلام پسندوں كی كاميابی اور اقتدار تك رسائی كے بعد فوج كی پوزيشن اور آئندہ رونما ہونے والی تبديليوں كا جائزہ لينے كی خاطر ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے مشرق وسطی سے مربوط مسائل كے ماہر "مرتضی ميری" كے ساتھ خصوصی گفتگو كی ہے ۔
ايكنا : اقتدار میں اسلام پسندوں كی موجودگی خطے اور ملك كی اندرونی تبديليوں میں كس طرح اثر انداز ہو گی ؟
مرتضی ميری : ميرے خيال میں حكومت مصر میں اسلام پسندوں كی موجودگی كا دقت سے جائزہ لينے كی ضرورت ہے يعنی اسلام پسندوں كے دو بڑے گرپوں اخوان المسلمين اور وہابيوں كو ايك دوسرے سے جدا كرنا چاہيئے كيونكہ ان میں ہر ایک اپنے كردار میں دوسرے سے مختلف ہے اور اپنی فعاليتوں اور كردار كے مطابق مصر اور خطے كی سياسی فضا میں اثرانداز ہو گا ۔
999211
نظرات بینندگان
captcha