بحرين میں انسانی حقوق كی نابودی كے لیے مغربی اداروں میں باہمی ہم آہنگی

IQNA

بحرين میں انسانی حقوق كی نابودی كے لیے مغربی اداروں میں باہمی ہم آہنگی

20:06 - May 08, 2012
خبر کا کوڈ: 2321583
بين الاقوامی گروپ : گزشتہ ايك سال كے دوران خطے میں جاری انقلابی تحريكوں كے پيش نظر بين الاقوامی اور علاقائی انسانی حقوق كے اداروں نے مشرق وسطی كی بگڑتی ہوئے صورتحال پر گہری نظریں جما ركھی ہیں ليكن یہ دقيق نظریں ہميشہ سياسی اور اقتصادی تبديليوں اور مفادات كے ساتھ مكمل طورپر مخلوط رہی ہیں يعنی انسانی حقوق كے اداروں كی ايسی منافقانہ پاليسی جس كو بحرين میں جاری انسانی بحران كے حوالے سے نماياں طور پر محسوس كيا جا سكتا ہے ۔
ان ممالك كے درميان جہاں اسلامی بيداری نے ايوانوں میں زلزلہ برپا كيا اور حكومتوں كو الٹ كر ركھ ديا ہے بحرين كے حالات سب سے زيادہ پيچيدہ ہیں ، اور سنگين حالات و واقعات بھی سب كے لیے عياں ہیں ۔ اكثر شہری اس بات پر يقين ركھتے ہیں كہ جب بھی اقليت پر مشتمل حكومت كو اپنے ہاتھوں سے طاقت نكلتی ہوئی دكھائی ديتی ہے عوام كے ساتھ منصفانہ سلوك كے بجائے ظلم اور تشدد كے حربے اپنائے جاتے ہیں البتہ یہاں اقليت پر قائم حكومت نے اكثريت كو كچھ حقوق اور امتيازات پيش كیے ہیں ليكن یہ امتيازات عوام كے غم و غصے كو ٹھنڈا كرنے كے لیے ناكافی ہیں۔
یہاں جس چيز كو بيان كرنا لازمی ہے وہ یہ كہ بلا شك و ترديد بحرين میں احتجاجی مظاہرے برپا كرنے والی اكثريت شيعوں كی ہے اور حكومتی ايوان میں اقتدار سنی اقليت كے پاس ہے ليكن یہ امر بحرين میں جاری بحران اور عوامی مظاہروں سے بالكل جدا ہے كيونكہ عرب ممالك كی اكثر حكومتیں اكثريت پر حكومت كر رہیں لہذا بحرين میں سنی شيعہ مشكل كا ذكر كرنا آسان ہے ليكن اگر اس مسئلے كو حقيقت كی نگاہ سے ديكھا جائے تو واضح ہو جائے گا كہ بحرين میں كوئی مذہبی يا قومی اختلاف نہیں بلكہ اس ملك كی سب سے بڑی مشكل عوامی حقوق كا پامال ہونا ہے ۔
1003081
نظرات بینندگان
captcha