ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «businessnews»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ تيونس میں حكومت بن علی كی سرنگونی كے بعد شہريوں كو اسلامی سرگرمياں انجام دينے كے لیے ملنے والی آزادی كے پيش نظر اقتصادی ماہرين اور سرمایہ كار بھی دنيا كے ديگر ممالك كے ساتھ تيونس كی ترقی كے لیے اسلامی اقتصاد كے فوائد سے استفادہ كرنے كے لیے حركت میں آ گئے ہیں ۔
لہذا اسی سلسلے میں ۲۸ اراكين پر مشتمل اسلامی اقتصاد كونسل كا افتتاح كيا گيا ہے جو ملك میں اسلامی مالياتی نظام كی ترقی اور اس شعبہ میں سرمایہ كاری كے خواہشمند حضرات كو جلب كرنے كے طريقہ كار كا جائزلے گی ۔
واضح رہے كہ كونسل نے ١۰ مئی كو سركاری طور پر اپنے كام كا آغاز كيا ہے اور ملك كے تمام وكلاء ، اقتصادی ماہرين اور بنكوں كے سربراہوں كو كونسل كی ركنيت اختيار كرنے كی دعوت دی ہے ۔
1005038