ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «leral»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ نيس كے ميئر نے اس بيان كے ساتھ كہ نماز جماعت كے لیے مسلمانوں كے زير استعمال یہ نماز خانہ "غير قانونی" اور "مطلوبہ معيار" كے مطابق نہیں ہے ، نماز خانے كو پليس اسٹيشن بنانے كی اطلاع دی ہے ۔
فرانسوی شہر "آلپ" كے مسلمانوں كی علاقائی شوری كے صدر "بوبكر بكری" نے زور ديتے ہوئے كہا : ان علاقے میں مسلمانوں كی تعداد ۱۰ فيصد ہے اور اس وقت مسلمان نماز جماعت كے لیے مناسب مكان اور مساجد كی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں لہذا ميئر كو ان ۱۰ فيصد شہريوں سے صرف نظرنہیں كرنا چاہيئے اور ان كے لیے مناسب عبادتی مركز كے بارے میں سنجيدگی سے سوچنا چاہيئے ۔
1025032