حسنی مبارك اور معمر قذافی جيسی فاسد حكومتوں كی سرنگونی كے بعد ان ممالك كے پارليمانی نمائندوں كے بيانات بنيادی تبديليوں كے لیے جدی عزم كے اظہار سے بڑھ كر سالہا سال سے چھپے ہوئے احساسات كو نماياں كر رہے ہیں ۔ مصر اور ليبيا كے انتخابات میں حصہ لينے والی سياسی جماعتیں مختلف غير منسجم افكار كا مركب تھیں جن كے درميان صرف سابقہ حكومتوں كو سرنگوں كرنے پر اتفاق رائے پايا جاتا ہے ليكن ملك كے مسائل كے حل اور مستقبل كے لیے مختلف بلكہ متضاد نظريات كو اپنا نصب العين قرار ديا ہے ۔
اس قسم كی فضا میں كہ جب اقتصادی بحران نے خطے كو اپنی لپیٹ میں لے ركھا ہے آئندہ پچاس سالوں كے لیے ترقياتی منصوبہ بندی كا نا ہونا خطے كے حالات كو مزيد مشكلات سے دوچار كر دے گا۔
1025931