ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے العالم نيوز چينل سے نقل كيا ہے: سعودی سيكيورٹی حكام نے محمد طاہر الشميمی كو صوبہ قطيب كے علاقے العوامیہ سے گرفتار كيا تھا اس ۱۷ سالہ لڑكے كو سعودی حكام نے اس لیے آزاد كرديا كيونكہ سعودی تشدد كی وجہ سے نہ وہ حركت كرسكتا ہے اور نہ بول سكتا ہے۔
محمد طاہر الشميمی اپنے والد كے ہمراہ گزشتہ اپريل میں جب كويت سے واپس آرہا تھا تو اسے گرفتار كرليا گيا ۔ محمد طاہر الشميمی كا والد العوامیہ كا معروف عالم دين ہے محمد طاہر كے گھر والے بتاتے ہیں كہ جب سے اسے گرفتار كيا گيا تھا فقط ايك بار دمام جيل سے ٹيلی فون پر رابطہ كروايا گيا ۔ محمد طاہر كی آزادی سے سعودی عرب كے معاشرے كو ايك جھٹكا لگا كيونكہ انھوں نے ديكھا كہ محمد طاہر سے حركت اور بولنے كی طاقت ختم ہوچكی ہے۔
حقوق بشر كی عالمی تنظيموں نے سعودی جيلوں میں بدترين تشدد كی شديد مذمت كی ہے۔
1042844