ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كے تجزیہ نگار كے مطابق سعودی عرب جسے انسانی حقوق كے قبرستان كے عنوان سے ياد كيا جاتا ہے ۔ آج عوام ظلم و جبر اور امتيازی سلوك كے خلاف نفرت كا اظہاركر رہے ہیں اورنصف صدی سے جاری وہابی مفتيوں كے غلط تفكرات اور آل سعود كے استبدادی نظام سے تنگ آئے ہوئے عوام اپنے حقوق كے حصول كے لئے سڑكوں اور گلی كوچوں میں آ گئے ہیں البتہ آل سعود كے مريد شام، ليبيا، يمن میں دھشت گرد گروپوں كی صورت میں اسلام كے نام پر لوگوں كا قتل عام كر رہے ہیں ۔
لوگوں كا احتجاج 2011ء سے ہی شروع ہو چكا تھا ۔ ليكن اس مہينے كی 8 تاريخ كو آيت اللہ نمر كی گرفتاری سے یہ احتجاج اپنے عروج كو پہنچ چكاہے ۔ سعودی عرب كے عوام میں اسلامی بيداری كا آغاز ہو چكا ہے ۔ آج قطيف ،عوامیہ اور الاحساء كے علاوہ مدينے منورہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
1054227