ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے اطلاع رساں ويب سائیٹ الشرق كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ ۴ دسمبر كو قاہرہ میں حزب اختلاف كی جماعتوں كے مظاہروں نے شدت اختيار كرلی ہے جبكہ ہزاروں كی تعداد میں مظاہرين نے صدارتی محل كا گھيراؤ كرليا جس كے بعد صدارتی محل كی سيكيورٹی پر ماموروں اور مظاہرين كے درميان جھڑپوں كی وجہ سے صدر محمد مرسی نے محل چھوڑ ديا ہے ۔
واضح رہے كہ صدر مرسی نے حال ہی میں اپنے اختيارات وسيع كرنے كا حكم جاری كيا تھا جس كے تحت عدالت كے آئين ساز اسمبلی كو ختم كرنے كے اختيار پر قدغن لگائی گئی تھی۔ اس حكم نامے كے بعد حزب اختلاف كی جماعتوں اور انسانی حقوق كی تنظيموں نے مصر كے صدر كو شديد تنقيد كا نشانہ بنايا اور پورے ملك میں ان كے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں ۔
1148526