بين الاقوامی گروپ : غزہ میں مزاحمتی تحريكوں كے ساتھ ۸ روزہ جنگ میں شكست كے بارے میں صیہونی وزير اعظم كے معاون "موشہ يعلون" كے حالیہ اعترافات اور اسرائيل كے متعدد اعلی حكام كے استعفے اس جعلی رياست كے زوال كی حكايت كر رہے ہیں وہی رياست جس كو سال ۲۰۰٦ كی ۳۳ روزہ جنگ میں حزب اللہ كے ہاتھوں سنگين شكست كا سامنا كرنا پڑا تھا۔
واضح رہے كہ اس ۸ روزہ جنگ نے دنيا والوں كے سامنے ايك بار پھر یہ ثابت كر ديا ہے كہ اسرائيل حقيقی معنی میں "مكڑی كا گھر" ہے اور اسی طرح یہ بات بھی عياں ہو چكی كہ ايران بغير ایٹم بم كے بھی مشرق وسطی كی سب سے بڑی طاقت ہے ۔
اس سے قبل اسرائيلی وزير اعظم كے معاون نے صیہونی روزنامے "جروزيلم پوسٹ" كے ساتھ گفتگو كے دوران دعوی كيا تھا : اگر ايران ایٹم بنانے میں كامياب ہوگيا تو وہ خطے كا طاقتورترين ملك بن جائے گا۔
1151004