ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ«ruvr»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ گزشتہ روز بنگلاديشی وزير اعظم نے اس طرز كے نئے قانون كی منظوری دينے كی مخالفت كا اعلان كيا ہے ۔
ڈھاكا میں وزير اعظم شيخ حسينہ واجد نے میڈيا سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ بنگلا ديش ايك سيكولر جمہوری ملك ہے جہاں ہر مذہب كے پيروكاروں كو اپنی مذہبی رسومات اور عبادات كا مساوی حق حاصل ہے ليكن كسی كے مذہبی احساسات كو ٹھيس پہنچانا بھی صحيح نہیں ہے۔ انہوں نے كہا كہ ملك میں پہلے ہی ايسے قوانين موجود ہیں جن كی رو سے كسی مذہب كی توہين كرنے والے كو سزا دی جاسكتی ہے اس لئے توہين مذہب قانون میں ترميم كی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے كہ بنگلا ديش میں بعض بلاگرز كی جانب سے مبينہ توہين مذہب كے بعد مذہبی جماعتیں اس قانون كو بدلنے كا مطالبے كررہی ہیں۔
1209996