بنگلا ديش حكومت نے توہين مذہب كے قانون میں ترميم كا مطالبہ مسترد كرديا

IQNA

بنگلا ديش حكومت نے توہين مذہب كے قانون میں ترميم كا مطالبہ مسترد كرديا

23:50 - April 09, 2013
خبر کا کوڈ: 2517021
بين الاقوامی گروپ : بنگلا ديش كی وزير اعظم شيخ حسينہ واجد نے توہين مذہب كے نئے قانون كے مطالبات رد كرتے ہوئے كہا ہے كہ ملك میں اس سلسلے میں پہلے سے موجود قانون كافی ہے اور اس میں ترميم نہیں كی جائے گی۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ«ruvr»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ گزشتہ روز بنگلاديشی وزير اعظم نے اس طرز كے نئے قانون كی منظوری دينے كی مخالفت كا اعلان كيا ہے ۔
ڈھاكا میں وزير اعظم شيخ حسينہ واجد نے میڈيا سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ بنگلا ديش ايك سيكولر جمہوری ملك ہے جہاں ہر مذہب كے پيروكاروں كو اپنی مذہبی رسومات اور عبادات كا مساوی حق حاصل ہے ليكن كسی كے مذہبی احساسات كو ٹھيس پہنچانا بھی صحيح نہیں ہے۔ انہوں نے كہا كہ ملك میں پہلے ہی ايسے قوانين موجود ہیں جن كی رو سے كسی مذہب كی توہين كرنے والے كو سزا دی جاسكتی ہے اس لئے توہين مذہب قانون میں ترميم كی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے كہ بنگلا ديش میں بعض بلاگرز كی جانب سے مبينہ توہين مذہب كے بعد مذہبی جماعتیں اس قانون كو بدلنے كا مطالبے كررہی ہیں۔
1209996
نظرات بینندگان
captcha