ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «leconomistemaghrebin»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ تيونس كے مفتی نے پريس كانفرنس كے دوران بعض انتہا پسند گروپوں كی جانب سے جوانوں كو ورغلانے اور بشار الاسد كے خلاف جہاد كے لیے شام بھيجنے كی طرف اشارہ كرتے ہوئے زور ديا : شام میں جاری جنگ كسی عنوان سے بھی جہاد نہیں ہے كيوں كہ شام كی عوام مسلمان ہیں اور مسلمانوں كے ساتھ جنگ جہاد كے زمرے میں نہیں آتی ۔
انہوں نے مزيد كہا : صرف فلسطين میں جہاد كو شرعی حيثيت حاصل ہے ليكن پھر بھی اس بات كی ابھی تك ضرورت پيش نہیں آئی كہ تمام مسلمان جہاد كے لیے مقبوضہ فلسطين چلے جائِیں ؛ مسلمان فلسطينی بھائيوں كی حمايت اور ان كے ساتھ اظہار يكجہتی كے ذريعے اس مقدس جہاد میں شامل ہو سكتے ہیں ۔
1214903