شام میں جاری جنگ كسی عنوان سے جہاد شمار نہیں ہوتی : تیونس كے مفتی

IQNA

شام میں جاری جنگ كسی عنوان سے جہاد شمار نہیں ہوتی : تیونس كے مفتی

23:21 - April 20, 2013
خبر کا کوڈ: 2521536
بين الاقوامی گروپ : گزشتہ روز ۱۹ اپریل کو تیونس كے مفتی اعظم شيخ عثمان بطيخ نے ايك بار پھر تیونسی جوانوں کی جانب سے شامی حکومت اور عوام کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں مصروف باغی گروپوں میں شموليت كی پرزور مخالفت كا اعلان كرتے ہوئے كہا : اس وقت حقيقی جہاد صرف فلسطين میں جاری ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «leconomistemaghrebin»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ تيونس كے مفتی نے پريس كانفرنس كے دوران بعض انتہا پسند گروپوں كی جانب سے جوانوں كو ورغلانے اور بشار الاسد كے خلاف جہاد كے لیے شام بھيجنے كی طرف اشارہ كرتے ہوئے زور ديا : شام میں جاری جنگ كسی عنوان سے بھی جہاد نہیں ہے كيوں كہ شام كی عوام مسلمان ہیں اور مسلمانوں كے ساتھ جنگ جہاد كے زمرے میں نہیں آتی ۔
انہوں نے مزيد كہا : صرف فلسطين میں جہاد كو شرعی حيثيت حاصل ہے ليكن پھر بھی اس بات كی ابھی تك ضرورت پيش نہیں آئی كہ تمام مسلمان جہاد كے لیے مقبوضہ فلسطين چلے جائِیں ؛ مسلمان فلسطينی بھائيوں كی حمايت اور ان كے ساتھ اظہار يكجہتی كے ذريعے اس مقدس جہاد میں شامل ہو سكتے ہیں ۔
1214903
نظرات بینندگان
captcha