یہاں معشوق كے احسان كا بحر بيكران رواں دواں ہے

IQNA

یہاں معشوق كے احسان كا بحر بيكران رواں دواں ہے

9:49 - October 01, 2013
خبر کا کوڈ: 2597706
حضرت امام رضا علیہ السلام كی شہادت كے بعد خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام كی ارادت ركھنے والوں نےاپنے اپنے انداز میں حرم مطہر رضوی میں اظہار عقيدت كيا ہے، ان عزاداروں كے درميان ہر شخص نے اپنی اپنی توانائی و استعداد كےمطابق كوشش كی كہ حضرتؑ كی خدمت كے افتخار سے مفتخر ہوجائے اور اپنے آپ كو حضرت ؑ كے خدّام كی فہرست میں ثبت و ضبت كروا سكے، مؤذن حضرات نے بھی اس سلسلے میں اپنے انداز میں اظہار عقيدت و ارادت میں بڑھ چڑھ كر حصہ ليا۔
جناب احمد مہر مشہدی عرف افخمی، ۷۸ برس كے سن كے ساتھ حرم مطہر رضوی كے قديمی ترين اور معروف مؤذن حضرات میں سے ہیں، ۵۰سال سے قرآن كريم كے ساتھ انس و قرابت ركھتے ہیں ، عشرہ كرامت كے مبارك ايام میں ہم امام رضا علیہ السلام كے اس ديرينہ خادم كی خدمت میں حاضر ہوئے اور كچھ دير حرم مطہر میں ان كی اذان گوئی كے يادگاراوقات كی كتاب كے صفحات الٹے، ملاحضہ فرمائیں؛
آپ نے پہلی مرتبہ كب اور كہاں اذان دی؟
خاص طرح كے سنّتی و روايتی مراسم قديم الايام سے حرم مطہر رضوی میں رائج و مرسوم تھے ،ان كے مطابق حضرت علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام كے زائرين اذان كی ملكوتی آواز سنتے ہی اذان كہنا شروع كرديتے تھے، میں نے بھی ۱۳ برس كے سن میں پہلی مرتبہ حرم مطہر رضوی میں اذان ظہر كے وقت جامع مسجد گوہر شاد میں اذان دی تھی۔
كب سے با قائدہ اور رسمی طور پر آپ كی پہچان حرم مطہر رضوی كے مؤذّن كے عنوان سے ہوئی؟
۱۳۲۹ہجری شمسی كے مراسم گرما كا ايك گرم دن تھا كہ مجھے حرم مطہر رضوی
حاضر ہونے كی توفيق ہوئی،میں نے جامع مسجد گوہر شاد كے صحن میں اذان دی۔ حرم مطہر كے انتظامات كے مسئولين میں سے ايك مسئول نے یہ اذان اور اس كے بعد مناجات سُنیں اور مجھے پيغام ديا كہ كل مسجد گوہر شاد آؤ اور پھر كہا كہ مسجد گوہر شاد كے مؤذن كے عنوان سے خدمت كروں،اس طرح خداوندمتعال كو یہ منظور تھا كہ میں حرم مطہر،مسجد گوہر شاد میں صبح،ظہر اور مغرب كے اوقات میں مؤذن ہونے كی خدمت انجام دوں۔
آپ سے پہلے اور آپ كے بعد كون مؤذن تھے؟
مجھ سے پہلے آقائے آقائی حرم مطہر میں مؤذّن تھے اور ان كی كيسٹیں ابھی بھی موجود ہیں اور ميرے بعد ميرا بیٹا جو كہ معتبر قرّاء ِ قرآن كريم میں شمار ہوتا ہے؛ ۱۵ سال تك حضرت امام رضا علیہ السلام كی اس خدمت كے شرف سے مشرّف رہا ہے۔
اس زمانے میں آپ كے كام كے سلسلے میں كيا مشكلات پيش آتی تھیں؟
قديم كے اس زمانے میں ساؤنڈ سسٹم اور اسپيكر وغيرہ كے نہ ہونے كی وجہ سے ہم ميناروں كی بلندی سے اذان ديا كرتے تھے تاكہ آواز سنائی دے اور لوگ آگاہ ہو جائیں جبكہ سختی اور مشكل ہمارے لئے كوئی معنی نہیں ركھتی تھی اوریہ خدمت ہميشہ ميرے لیے لذت بخش رہی۔
آپ كی بنيادی ترين تشويق كرنے والے كون تھے؟
ميرے والد بزرگوار كی آواز بہت دلنشين تھی اور انہیں اذان دينا اور اذان سننا بہت اچھا لگتا تھا اور مجھے بھی وہ ہی اس امر كے لئے ترغيب دلاتے تھے ،اس كے علاوہ ميرے پرائمری سكول كے مدير جو كہ ايك روحانی اور انتہائی مذہبی شخص تھے اس سلسلے میں بہترين كردار ركھتے ہیں ۔ ہر روز صبح كلاس میں جانے سے پہلے مدرسہ كی صفوں میں حضرت امام رضا علیہ السلام كی خاص صلوات پڑھی جاتی تھی اور ميری تقويت و ترغيب میں یہ ايك بہت مؤثر اور اہم سبب تھا۔
حرم مطہر رضوی میں كو ن سے سال سے ساؤنڈ سسٹم شروع ہوا؟
حرم مطہر رضوی میں ۱۳۳۰ ہجری شمسی سے جامع مسجد گوہر شاد میں آواز كا یہ نظام و انتظام جاری ہے۔
اپنی اس خدمت كے زمانے كے دوران سے حضرت امام رضا علیہ السلام كی كچھ كرامات بيان فرمائیں گے؟
ميرے بہت زيادہ دوستوں ،چاہنے والوں اور زائرين نے بھی مجھ سے یہی سوال كيا ،جواب كے پہلی اور ابتدائی مرحلے میں مجھے معلوم نہیں ہوتا كيا كہوں كيونكہ یہاں حضرت ؑ كی كرامت ديكھنے كی ضرورت نہیں ہے،حضرت ؑ كے اصحاب اور خدمت گزار بھی صاحب ِ كرامت ہیں تو خود حضرت ؑ كے بارے میں كيا كہا جا سكتا ہے۔ خداوند متعال كی نعمات بے شمار ہیں ،خداوند كی مشہد مقدس كے لوگوں پر ايك عنايت اسی مہربان امام علیہ السلام كا اس شہر میں وجود ذيجود ہے ، میں سالم زندگی ،با عقيدہ ،ديندار اور اہل بيت علیہم السلام كی عاشق اولاد كو حضرت ثامن الآئمہ علیہ السلام كی كرامات میں سے جانتا ہوں ۔
كيا آپ اس مقدس آستان میں كوئی اور خدمت بھی انجام ديتے رہے؟
اس حقير كو یہ افتخار بھی نصيب ہوا ہے كہ مسجد گوہر شاد میں قرآنی مسئول كے عنوان سے اور اسی طرح ملك میں بين الاقوامی قرآنی مقابلہ جات میں قاضی بنا اور اس طرح حضرت امام رضا علیہ السلام كے حرم مطہر میں كچھ زيادہ وقت خدمت گزاری میں بسر كرنے كا موقع نصيب ہوا۔
نظرات بینندگان
captcha