ایکنا نیوز- پاکستانی میڈیا کے مطابق چارسدہ یونیورسٹی میں قوم پرست رہنما باچا خان کی برسی کے موقع پرمشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لئے طلبہ، اساتذہ اورعملے کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اوردھماکوں کی آوازیں بھی سنیں گئیں۔ یونی ورسٹی سے موصول اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد بھگڈرمچ گئی اورطلبہ اپنی کلاسوں میں جب کہ طالبات ہوسٹل میں محصور ہو کررہ گئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے چارسدہ یونیورسٹی کا محاصرہ کیا اور دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا تاہم حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کو فوری طور پرطلب کیا گیا جس کے بعد پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے ہی بلند عمارتوں کا کنٹرول سنبھالا اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں یونی ورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین سمیت 25 افراد شہید جب کہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والے افراد کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال چارسدہ منتقل کردی گئی ہیں۔ دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والوں میں اسسٹنٹ پروفیسرحامد حسین بھی شامل ہیں جوحال ہی میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرکے پاکستان آئے تھے اور چارسدہ یونی ورسٹی میں کیمسٹری کے استاد تھے۔
اطلاعات کے مطابق کالعدم طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔