فلسطین، اسرائیل کاوجود غیراخلاقی وغیر قانونی

IQNA

فلسطین، اسرائیل کاوجود غیراخلاقی وغیر قانونی

21:47 - January 23, 2016
خبر کا کوڈ: 3500172
بین الاقوامی گروپ: پال لارودی نے اقوام متحدہ کے چارٹر اورجنیواکنونشن کا حوالہ دیتے ہوئےکہاکہ ان کے مطابق کسی کوبھی دوسرے کی زمین ہڑپنے کا کوئی جوازنہیں ہے لہذا ان قوانین کےتحت فلسطین میں اسرائیل کی آبادی کاری اوردوسرے اقدام بالکل غیر قانونی ہیں ۔
ایکنانیوز-شفقنا: امریکہ کے ایک سیاسی مبصر نےکہاہےکہ فلسطین میں اسرائیل کی موجودگی کوغیر اخلاقی اورغیر قانونی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ کے ایک سیاسی مبصر ’’پال لارودی‘‘نے پریس ٹی وی کےساتھ ایک انٹریو میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی صیہونی رژٰیم کے ناجائز قبضے اورفلسطینی عوام کی ملکیت وبنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ فلسطینی زمینوں پر اسرائیل کو قبضہ کرنے کاکوئی جواز نہیں ہے اوراسرائیل کے اسطرح کے اقداما ت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل کا خودکا وجود بھی بالکل غیر قانونی ہے کیونکہ اس غاصب ریاست کو طاقت اورظلم کے بل بوتے پر وجود میں لایاگیا ہے اورچونکہ اسرائیلی آبادکاروں کا جنم بھی فلسطین میں نہیں ہوا ہے اس لئے انہیں فلسطینی زمین پر قبضہ کرنے کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

انہوں نےفلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کا حوالہ دیتے ہوئےکہاکہ اس قراردادکے تحت اسرائیل کو فلسطینیوں کی ہڑپ شدہ زمین کو واپس کرکے تمام پناہ گزینوں کو واپس اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہئے ۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیاہےکہ وہ فلسطینیوں پر صیہونی اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی پاداش اورغاصب ریاست کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اسے اقوام متحدہ کی رکنیت سے خارج کرنے کیلئے ضروری اقدامات عمل میں لائے ۔

پال لارودی نے مزیداقوام متحدہ کے چارٹر اورجنیواکنونشن کا حوالہ دیتے ہوئےکہاکہ ان کے مطابق کسی کوبھی دوسرے کی زمین ہڑپنے کا کوئی جوازنہیں ہے لہذا ان قوانین کےتحت فلسطین میں اسرائیل کی آبادی کاری اوردوسرے اقدام بالکل غیر قانونی ہیں ۔

نظرات بینندگان
captcha