انہوں نے کہاکہ اسرائیل کا خودکا وجود بھی بالکل غیر قانونی ہے کیونکہ اس غاصب ریاست کو طاقت اورظلم کے بل بوتے پر وجود میں لایاگیا ہے اورچونکہ اسرائیلی آبادکاروں کا جنم بھی فلسطین میں نہیں ہوا ہے اس لئے انہیں فلسطینی زمین پر قبضہ کرنے کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔
انہوں نےفلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کا حوالہ دیتے ہوئےکہاکہ اس قراردادکے تحت اسرائیل کو فلسطینیوں کی ہڑپ شدہ زمین کو واپس کرکے تمام پناہ گزینوں کو واپس اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہئے ۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیاہےکہ وہ فلسطینیوں پر صیہونی اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی پاداش اورغاصب ریاست کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اسے اقوام متحدہ کی رکنیت سے خارج کرنے کیلئے ضروری اقدامات عمل میں لائے ۔
پال لارودی نے مزیداقوام متحدہ کے چارٹر اورجنیواکنونشن کا حوالہ دیتے ہوئےکہاکہ ان کے مطابق کسی کوبھی دوسرے کی زمین ہڑپنے کا کوئی جوازنہیں ہے لہذا ان قوانین کےتحت فلسطین میں اسرائیل کی آبادی کاری اوردوسرے اقدام بالکل غیر قانونی ہیں ۔