ایکنانیوز- نوایے وقت-پاکستانی میڈیا نے خلیجی اخبار گلف نیوز کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے، افغان صوبے ننگرہار میں پاکستانی اور امریکی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ، بیٹے اور ایک خاتون سمیت 5 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاک فوج اور افغانستان میں موجود امریکی فورسز نے مشترکہ کارروائی کی۔ افغان صوبے ننگرہار میں ملا فضل اللہ کے گھر پر ڈرون کے ذریعے میزائل حملہ کیا گیا جس میں ملا فضل اللہ سمیت 5 افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان نے امریکہ سے ملا فضل اللہ کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ آرمی سکول پر حملہ بھی سربراہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ملا فضل اللہ نے کرایا تھا۔ ملا فضل اللہ کی ہلاکت پر سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد کے ذرائع کا کہنا ہے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر منظرعام پر لائی جائے گی۔ پاکستانی حکومت نے اب تک کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی جبکہ امریکی اور آزاد ذرائع نے بھی فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
خلیجی اخبار نے اپنی رپورٹ میں فضائی کارروائی کا ذکر کیا جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ملا فضل اللہ ڈرون حملے میں مارا گیا۔ آئی این پی کے مطابق اتوار کو افغان وزارت دفاع کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا ۔ ننگر ہار کے ضلع اچین کے گاﺅں نرگوسی میں اتحادی افواج کے جاسوس طیارے نے فضائی حملہ کیا اور میوند کے علاقے میں داعش کا ایک مقامی کمانڈر پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔ اسکے ایک روز بعد خلیجی اخبار گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ننگر ہار کے علاقے میوند میں ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ اپنے اہل خاندان سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔گلف نیوز دو برس قبل بھی ایسی خبر جاری کر چکا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ پرانی رپورٹ ہی ہے۔
ملا فضل اللہ