بین الاقوامی گروپ:پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک بھرمیں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشیدشاہ نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے نام پر صرف سندھ میں کارروائی ہو رہی ہے، حکمرانوں کو اب اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہو گی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بیان انتہائی خوش آئند ہے۔
ایکنانیوز-ڈیلی پاکستان: تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ نے اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیکٹا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑا گیا؟ نیشنل ایکشن پلان کے نام پر صرف سندھ میں کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایس اور چارسدہ سانحے پر جوڈشل کمیشن تشکیل دیا جائے جوڈیشل کمیشن سے متعلق صوبائی حکومت اقدام اٹھائے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سانحہ چارسدہ پر مودی نے مذمت کی، وزیر داخلہ نے نہیں کی، وفاقی وزیر داخلہ تو پارلیمینٹ میں اظہار لاتعلقی کر چکے ، باچا خان یونیورسٹی میں طلباءکے والدین کی آنکھوں میں جلال دیکھ کر ڈر گیا۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا بیان انتہائی خوش آئند ہے جس سے فوج کا وقار بہت بلند ہوا ہے جبکہ اس بیان کا مقصد قیاس آرائیوں کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی باتوں سے پہلے ہی محسوس ہوتا تھا کہ وہ حقیقی سپاہی ہیں، بدقمستی سے طالع آزماﺅں نے اس ملک میں جمہوریت کو ڈی ریل کیا اور بہت کم ایسے مراحل آئے کہ آرمی چیف نے مدت ملازمت میں توسیع نہیں لی۔