داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ نئے نام کیساتھ وہی پرانے مہرے ہیں، علامہ عابد الحسینی

IQNA

داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ نئے نام کیساتھ وہی پرانے مہرے ہیں، علامہ عابد الحسینی

12:32 - January 30, 2016
خبر کا کوڈ: 3500203
بین الاقوامی گروپ: تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی نے اسلام ٹائمز کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت کا رویہ حالیہ وقتوں میں ہمارے ساتھ بہت معاندانہ رہا ہے۔ طوری اقوام کو اپنے حقوق کے لئے پرامن جلسہ جلوس کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ گذشتہ دنوں لنڈا بازار میں دھماکے اور شیخ باقر النمر کی سزا کے خلاف احتجاج پر حکومت نے بڑی روکاوٹیں کھڑی کیں
ایکنا نیوز- معروف عالم دین علامہ سید عابد الحسینی نے اسلام ٹایمز سے گفتگو میں کہا کہ داعش کوئی نئی مخلوق نہیں بلکہ وہی پرانی دہشتگرد تنظیموں سے وابستہ لوگ ہیں۔ صرف نام تبدیل کیا ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ کوئی داعش واعش نہیں بلکہ حکومت کی اپنی ایک پالیسی ہے۔ شاید داعش کے نام سے لوگوں میں خوف ڈالنے کی ایک چال ہو یا یہ کہ چونکہ سرحد پر حالات بہت نازک ہیں، تو شاید کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عوام کو تیار کرنے کا ارادہ ہو۔
حکومت کا رویہ حالیہ وقتوں میں ہمارے ساتھ بہت معاندانہ رہا ہے۔ طوری اقوام کو اپنے حقوق کے لئے پرامن جلسہ جلوس کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ گذشتہ دنوں لنڈا بازار میں دھماکے اور شیخ باقر النمر کی سزا کے خلاف احتجاج پر حکومت نے بڑی روکاوٹیں کھڑی کیں۔ بازار کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اسکے باوجود لوگوں نے خود کو خطرے میں ڈال کر ایف سی اور فوج کی روکاوٹوں کو عبور کرکے پاراچنار شہر تک خود کو پہنچایا۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت ہمارے لوگوں کے ساتھ نہایت غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتی ہے۔
انہوں نے شام کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی شامی حکومت کے لئے لڑتا ہے تو یہ ٹھیک نہیں، تاہم مسلمانوں کے کچھ مشترکہ شعائر ہیں، کچھ شیعوں کے اپنے مخصوص شعائر ہیں۔ بندہ کوئی مفتی نہیں ہوں کہ جائز یا واجب کا فتویٰ صادر کرسکوں، تاہم اتنا کہوں گا کہ شعائر کا دفاع کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض اوقات خصوصاً قرب و جوار میں رہنے والے لوگوں پر شاید واجب ہو اور یہ بھی واضح ہو کہ مسئلہ صرف شام کا نہیں بلکہ اگر سعودی عرب میں موجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر کوئی ملک یا تنظیم حملہ کرے اور اسکا مقصد انکی اہانت اور انکو مسمار کرنا ہو تو اس کا دفاع کرنے والوں کی صف اول میں اور سب سے بڑھ کر آپ شیعان علیؑ ہی کو پائیں گے۔ تو بات لوگوں کی نیت پر موقوف ہے، لہذا جو لوگ شام کی حکومت کے لئے لڑتے ہیں، وہ ٹھیک نہیں کرتے، لیکن جو لوگ بی بی زینب سلام اللہ علیھا نیز اہلبیت علیھم السلام کے مزارات کی دفاع کی نیت سے شام میں لڑتے ہیں، یا عراق میں اسی نیت سے لڑتے ہیں۔ انکا صلہ انہیں اللہ ہی دیگا۔
نظرات بینندگان
captcha