ایکنا نیوز- روزنامه گارڈین کے مطابق برطانوی پالیمانی کمیٹی نے ستر مسلمان طلباء سے ملاقات کی اور انکے مسایل اور مشکلات سے آگاهی حاصل کی۔ طلباء گروپ میں بریڈفورڑ،لیڈز اور دیگر شهروں کے نمائندے شامل تھے.
برطانوی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے پهلی بار یه سلسله شروع کیا گیا هے اور پروگرام کے مطابق جلد هی مانچسٹر، بیرمنگھم اور کیمبرج میں بھی مسلمان طلباء سے ملاقاتوں میں انکےمسایل سنے جائیں گے.
یه سلسله «فری ڈائیلاگ» کے عنوان سے مسلمان طلباء کے ساتھ شروع کیا گیاهے
لیبر پارٹی کے رکن کیٹ واز کے ساتھ گفتگو میں جوانوں کو سوالات کرنے کا موقع دیا گیا اور طلبا نے اپنی مشکلات سے بھی رکن پارلیمنٹ کو آگاه کیا.
مسلما ن طلباء نے واضح کیا که اسلامی شدت پسندی پر توجه مرکوز کی گیی هے مگر نسلی تعصبات اور قوم پرستی کو نظر انداز کیا جارها هے جبکه میڈیا بھی اسلامو فوبیا پر کام کررها هے.
طلباء کا کهنا تھا که بعض اوقات سوشل میڈیا میں وه اپنی مشکلات بیان کرتے هوئے خوف محسوس کرتے هیں کیونکه بعد میں پولیس انهیں تنگ کرتی هے.
لیبر پارٹی کے رکن چوکا اومونا نے برطانوی وزیراعظم کے بیان کو بھی نادرست قرار دیا جسمیں انهوں نے کها تھا که انگریزی نه سیکھنے والی مسلمان خواتین کو ملک بدر کیا جاسکتا هے.
پارلیمانی کمیٹی نے مسلمان طلباء کو یقین دهانی کرائی که انکے مسایل غور سے سنا اور حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے.