ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «RT» کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انکے سروے میں کیی افراد نے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد برطانوی ایجنسی نے ان سے رابطہ کیا اور انکو کام کرنے کی پیشکش کی ہے
کیی لوگوں نے کہا کہ ان سے دوستانہ رابطے کے نام پر کام لینے کی کوشش کے بعد انکو نرم انداز سے دھمکی بھی ملی ہے کہ وہ انکے ساتھ کام کریں
مختلف افراد کے مطابق انکو مسلمان اور غیر مسلمان گروپوں کی جانب سے دھمکیاں بھی ملتی ہیں اور انکو بعض اوقات فیملی سے جدا ہونا پڑتا ہے
نو مسلموں نے شدت پسندی کا الزام لگانے کا بھی شکوہ کیا اور کہا کہ ان کی کوئی ایسی سوچ نہیں
ان کا کہنا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر شدت پسندی کا الزام بیجا اور نادرست ہے
نومسلم افراد کا کہنا ہے کہ جو خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے انکے اسلام میں کام کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات نو مسلموں پر خفیہ ایجنسی کا خدشہ انکے کردار کو مشکوک بنادیتا ہے.