سعودی اتحاد: حکومت کی 'مبہم پالیسی' پر سینیٹ کو تشویش

IQNA

سعودی اتحاد: حکومت کی 'مبہم پالیسی' پر سینیٹ کو تشویش

12:07 - February 10, 2016
خبر کا کوڈ: 3500273
بین الاقوامی گروپ:سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ 34 مسلم ممالک کے اتحاد میں پاکستان کے شامل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے حکومت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہے.

ایکنا نیوز- سینیٹر مشاہد حسین سید کے سوال پر سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ 'انسداد دہشت گردی اتحاد' کے حوالے سے تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں اور یہ کہ حکومت مقررہ وقت کے دوران فیصلہ لے سکتی ہے۔

کمیٹی کے اراکین نے مذکورہ معاملے پر وزارت خارجہ سے دو ٹوک بیان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر گریز کرنے سے عوام کے لیے درست تاثر نہیں جارہا.

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ حکومت کی جانب سے غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا کہ وہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر کوئی فیصلہ کرلے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلے بھی پالیسی بیان میں یہ واضح کردیا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ترین مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مشاہد اللہ سید کا کہنا تھا کہ 'حکومت کا رد عمل مبہم ہے'۔

سعودی عرب کی سربراہی میں یہ اتحاد مبینہ طور پر شام میں زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

گزشتہ روز سینیٹ کمیٹی کے اراکین نے ایک اجلاس کے دوران شام تنازع میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا.

یاد رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ داعش کو شکست دینے کے لیے وہ شام میں فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

امریکا کی جانب سے مذکورہ اعلان کو خوش آمدید کہا گیا اور متحدہ عرب امارات نے شام میں زمینی فوجیں بھیجنے کے لیے اپنی تیاری کے مکمل ہونے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا ماننا ہے کہ کمیٹی نے اس ابھرتے ہوئے مسئلے پر بات چیت کرکے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کردیا ہے.

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عطاء الرحمٰن نے اس خوف کا اظہار کیا کہ شام تنازع میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنے سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

نظرات بینندگان
captcha