ایکنا نیوز- روزنامه «Politiken»،کے مطابق حضرت مریم(س) کے نام سے قا ئم شده مسجد کی بانی «شیرین خانکن» کا کہنا هے که اس مسجد کی تعمیر پر بعض مسلمانوں کی جانب سے اعتراضات بھی کیے گیے هیں مگر اکثر لوگوں نے اس پر رضامندی ظاهر کی هے
اس مسجد میں مسلمان خواتین اسکالرز تقاریر کریں گے.
سیکورٹی مسایل کی وجه سے اب تک حضرت مریم(س) کے نام سے منسوب اس مسجد کا رسمی طور پر اعلان نهیں کیا گیا هے.
قابل ذکر هے که کچھ عرصے قبل برطانیه کے شهر بریڈفورڑ میں بھی خواتین مسجد کے قیام کا منصوبه بنانے کی باتیں کی جارهی تھیں.
امریکه کے شهر لاس انجیلس میں بھی پهلی خواتین مسجد قا ئم هوچکی هے جهاں خاتون موذن اور خاتون خطیب نے کام شروع کردیا هے اور جمعه کی نماز بھی خاتون امام پڑھا رهی هے۔ اس میں صرف خواتین اور بچے شرکت کرسکتے هیں البته مرد حضرات صرف مالی تعاون کے مسا ئل میں کام کرسکتے هیں
چین، چلی اور هندوستان میں بھی خواتین مساجد موجود هیں.