ایکنا نیوز- رفاہ یونیورسٹی کے وایس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد نے اسلام ٹایمز سے گفتگو میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج ابلاغ عامہ نے لوگوں کو بالکل کاٹ کر رکھ دیا ہے، خاندانوں کو منتشر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک فرد جو ایک گھر میں پلتا تھا، روایات کا حامل ہوتا تھا، اب میڈیا اور ٹیلی ویژن سے معاشرہ پروان چڑھ رہا ہے، اور وہ تو صرف ایک بات سکھاتا ہے اور وہ ہے دہشت گردی، وہ اشتہارات ہوں یا ڈرامے ہوں۔ حتیٰ کہ بچوں کو دکھائے جانے والے کارٹون، بچوں کو دہشت گرد بناتے ہیں، جو کچھ وہ دیکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ایک بلی ہے اور ایک چوہا ہے، ان میں جنگ جاری ہے، جبکہ جنگل کے جانور ایک ساتھ رہا کرتے تھے، جنگ نہیں ہوا کرتی تھی، لیکن جو چیز ان کارٹون کے ذریعے دکھائی جاتی ہے وہ ہے جنگ اور غارت گری، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ابلاغ عامہ کو درست سمت گامزن کیا جائے۔
دوسرا میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی بنیاد اور اس کا دستور قرآن کریم تھا، اور قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے، جو اپنے پڑھنے اور سمجھنے والوں اور اس بنا پر ہمارے ملک کا کوئی بھی تعلیمی نظام ایسا نہیں ہے، جو اپنے پڑھنے والوں کو اور نئی نسل کو قرآن کریم کی تعلیمات منتقل کرتا ہو۔ جس کے نتیجے میں قرآن کی کریم کی کسی بھی آیت کے ایک حصے کو نکال کے، لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں، قرآن پاک یہ کہتا ہے کہ نماز کے قریب نہ آو، جب نشے کی حالت میں ہو۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ نماز کے قریب نہ آو اور آگے نہ کہے، گمراہی پھیلے گی، چنانچہ جب تک قرآن کریم کا مکمل مفہوم سمجھتے ہوئے، جب تک نہیں سمجھایا جائے گا، اس کو بعض افراد اپنے معانی پہنا کے، لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے نظام تعلیم کے اندر قرآن کریم متفقہ ترجمہ کو آغاز سے اختتام تک نافذ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسل کو معلوم ہو کہ وہ کس دین کے ماننے والے ہیں۔ اس دین کے جس میں محبت، برداشت، رواداری، سچائی، امن اور عدل ہے۔ یہ وہ دین نہیں جو امریکہ بطور اسلام کے پیش کرتا ہے۔ جو مغرب پیش کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ اسلام نام ہے دہشت گردی کا۔ اگر آپ کو اسے کاونٹر کرنا ہے، لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینی ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری تمام مدارس میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے۔انہوں نے اسلامی انقلاب کی برسی کے حوالے سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ استعمار سے آزادی کے نتیجے میں انقلاب ایران نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے، جس سے معلوم ہوتا کہ اس دور میں بھی نظریئے کی بنیاد پر تبدیلی واقع ہوسکتی ہے اور وہ نظریہ صرف اسلام ہے۔ امام خمینی کی تعلیمات کو اگر خلاصے کے طور پر بیان کیا جائے، تو وہ صرف اللہ کی حاکمیت کے قیام کی جدوجہد تھی اور یہ اصول جہاں بھی اختیار کیا جائے گا، وہاں بھلائی کا نظام کارفرما ہوگا۔