ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں مجلس وحدت کے سیکریٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ سعودی عرب میں آمریت کی طرز پہ حکومت ہے، وہ کسی کو حق نہیں دیتے کہ کوئی ان سے اختلاف کرسکے، مذہب کو بھی تازیانہ بنا کر، تمام مخالفین کو کچلنے کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سعودی حکمرانوں کی تاریخ ہے، شہید باقر النمر بھی سعودی رجیم کے اس رویے کا نشانہ بنے ہیں۔ شہید باقر النمر کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے کہا وہ ذلت کی زندگی کو برداشت نہیں کرسکتے، انہوں نے کوئی ہتھیار نہیں اٹھایا، بس یہی اپنے حقوق کی آواز بلند کرنا انکا جرم تھا، وہ اپنے مکتب پہ اصولوں پہ زندگی گذارنا چاہتے تھے۔ شہید باقر النمر نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ موقف پہ قائم رہیں گے اور ہر قیمت ادا کریں گے۔ انہوں نے قیام کیا، یہ قیام بہت مشکل ہوتا ہے، جب ایسی آمرانہ حکومت نے اس گھٹن کا ماحول بنا رکھا ہو۔ ان حالات میں کوئی چاہیے ہوتا ہے جو اس جمود کو توڑے، شہید نے اس جمود کو توڑا ہے، اسی لئے سید حسن نصراللہ سے لیکر آیت اللہ خامنہ ای تک سب نے شہید کے پیغام کو آگے بڑھانے کی بات کی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ شہید کی مظلومیت بیان ہو، ظالم کو بے نقاب کیا جائے۔انہوں نے پاکستان میں شدت پسند مدارس کے بجایے پرامن مدارس پر چھاپوں کے حوالے سے کہا کہ ایسے مدارس جو اہلسنت بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، ان پر چھاپے مارے گئے ہیں، خود وفاقی وزیر مذہبی امور کے مدرسے پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ لیکن جو مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کو پوچھا بھی نہیں گیا، یہ سب سعودیہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہے۔ بریلوی مسلک کے لوگوں میں یہ رائے پختہ ہو رہی ہے کہ داتا دربار پہ جن دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا، وہی ہیں جنہوں نے جنت البقیع میں مزارات مقدسہ کو منہدم کیا ہے۔ اہلسنت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ سعودی عرب کے متعلق جو سمجھا جاتا ہے ایسا نہیں، انکی پالیسیاں اپنی شہنشاہیت کو بچانے کے لئے ہیں۔ وہ بھی پاکستانی عوام کے سامنے سعودی عرب کیخلاف بول رہے ہیں۔ اسی ماحول کی وجہ سے ضرب عضب بھی جاری ہے اور پاکستان کے استقلال کے منافی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے متعلق یہ سوچا جا رہا ہے کہ وہ سعودیوں کے حمایت یافتہ ہیں۔ جو سعودی عرب نے سحر بنایا ہوا تھا کہ وہ خادمین حرمین شریفین ہیں، وہ اب ٹوٹنا شروع ہوگیا ہے۔ اب پاکستان کے شیعہ اور اہلسنت سعودیہ کیخلاف اکٹھے ہو کر نکل آئے ہیں