ایکنا نیوز- روزنامہ گارڈین کے مطابق سڈنی یونیورسٹی کے نماز خانے میں توڑپھوڈ اور دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی.
پولیس کو اس حوالے سے ابھی تک خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے کہ اس واقعے کو کس طرح انجام دیا گیا ہے.
یونیورسٹی کی طالبہ سمیحه الخیر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کیی بار پیش آیا ہے اور میں نے انتظامیہ کورپورٹ دی ہے.
گذشتہ تین چار مہینے میں اب تک پانچ بار نماز خانے کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور حالیہ واقعے میں نماز خانے کے سامان بکھرنے کے علاوہ دیوار پر اسلام مخالف نعرے بھی درج کیے گئے ہیں
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحول دوستانہ ہے اور ہم اس واقعے پر مسلمان طلباء سے ہمدردی کا اظھار کرتے ہیں.
اور جلد مسلمان طلباء سے ایک خصوصی نشست منعقد کی جائے گی تاکہ مسئلے کے حل کے لیے مشورہ کیا جاسکے
اسلام ادارے کے رکن احمد ابوزید نے واقعے پر طلباء سے رابطہ کیا ہے تاکہ انکے جذبات سن سکے.
ابوزید کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی یونیورسٹیون میں بڑی تعداد میں مسلمان طلبا زیرتعلیم ہیں اوراگر یونیورسٹیوں میں مسلمان طلباء کو مناسب ماحول فراہم نہ کیا گیا تو ان پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔