ایکنا نیوز- مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے اسلام ٹایمز سے گفتگو میں کہا کہ آپ جب دنیا کو گلوبل ولیج کہتے ہیں تو ہر گائوں اور ویلیج کا ایک چوہدری بھی ہوتا ہے اور چوہدری کی اجازت کے ساتھ اس گائوں میں ہر کام انجام پاتا ہے، زمینوں پر ہل بھی چلتا ہے، میلے بھی لگتے ہیں، چوہدری کی اجازت کے ساتھ ادارے بنتے ہیں، چوہدری کی اجازت کے ساتھ نمازیں پڑھی جاتی ہیں، چوہدری کی دشمنی اور دوستی ہی گائوں والوں کی دوستی اور دشمنی کا معیار بن جاتی ہیں، دنیا کا اس وقت چوہدری امریکا ہے اور امریکی پالیسز کے نتیجے میں آپ مشرق وسطٰی میں لاکھوں لوگوں کا خون خرابہ دیکھ رہے ہیں، یہ اسی پالیسی کا حصہ ہے، تھڑد ورلڈ میں جتنے بھی ممالک ہیں وہ اسی پالیسی پر کاربند ہیں، اس لئے کہ اس پالیسی سے نکل کر یہ اپنی حیات کھو دیتے ہیں، ان کی مشکل یہ ہے کہ اگر یہ اس پالیسی کے دائرے سے نکلنا چاہیں تو ان کو موت نظر آتی ہے، ہمارا سسٹم اور پورا ملک اس وقت ورلڈ بنک کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، آپ اس لئے ورلڈ بنک کو، اقوام متحدہ کو اور جو امریکی شرائط ہیں، ان شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے انٹرنل اور ایکسٹرنل پالیسی بناتے ہیں۔ یہ جو 34 ممالک کی یا اس وقت 20 ممالک کی بات چیت چل رہی ہے، شروع میں جس طرح سے تنقیدیں بھی ہوئیں اور پھر اس کو بعض لوگوں نے سراہا بھی، لیکن سعودیوں نے کیا کہا۔؟ سعودیوں نے کہا کہ اگر امریکی ہماری کمان سنبھالیں گے تو پھر ہم میدان جنگ میں اتریں گے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پہلے سے ایسا منصوبہ ہے کہ جس میں امریکہ پیٹھ پیچھے موجود ہے، سعودیوں نے انہی کے کہنے پر اسرائیلیوں کی منصوبہ بندی کے تحت یہ پروگرام شروع کیا، جس کے ویڈیو ثبوت اسرائیلی تھنک ٹینکس کے اعتراف کی صورت میں موجود ہے اور گویا امریکیوں کو یہ دعوت دی، اپنی طرف سے دی، جبکہ یہ پروگرام امریکیوں کی طرف سے ہے۔ لہٰذا جب پروگرام اور منصوبہ امریکیوں کا ہوگا تو اس سے نواز شریف صاحب مثتنیٰ نہیں ہیں۔
نواز شریف صاحب نے گذشتہ اپنے تین سال میں جو قرضے لئے ہیں، آپ اس کی مقدار دیکھ لیں، یہ مقدار زرداری کے دور اور اس سے پچھلے دور کی نسبت بہت زیادہ ہے اور اتنا سارا قرضہ ان کو کس بنیاد پر مل رہا ہے؟ اس بنیاد پر کہ یہ امریکی پالیسیوں کے سامنے پوری طرح سے سر تسلیم خم ہیں، لہٰذا کسی ایسے اتحاد میں ان کا شامل ہونا ان کی اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق نہیں ہے بلکہ اس امریکی اور اسرائیلی پالیسی کے مطابق ہے، جس سے یہ نکل نہیں سکتے۔ اگرچہ انہوں نے اعلان تو کیا ہے کہ یہ کسی ایسی جنگ میں نہیں کودیں گے، لیکن اس وقت جو ہمارے سامنے چیزیں ہیں، اس کے مطابق لگتا یہ ہے کہ داعش کے متبادل کے طور پر ان کے زیر قبضہ علاقوں میں یہ خود جائیں گے، جن جن علاقوں میں داعش کا قبضہ تھا، ان علاقوں میں روس کے حملوں، ایرانیوں کی مقاومت، حزب اللہ، بشار الاسد، عراقی فورسز نے ملکر داعش کا صفایا کیا ہے۔ اب طاقت کا توازن اس پورے خطے کے اندر بگڑ چکا ہے، اب وہ والی صورتحال نہیں رہی جو تین سال پہلے تھی، اب جب ٹیبل پر مذاکرات کیلئے بیٹھتے ہیں تو سعودیوں کے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے، جس کی بنیاد پر وہ سودا بازی اور بارگین کرسکیں، اس لئے کہ مسلسل جو یہ دہشت گرد قوتیں تھیں، ان کو سعودیوں اور امریکیوں نے پروموٹ کیا تھا اور اب بھی ان کو اسلحہ دے رہے ہیں، ان دہشت گردوں یعنی داعش اور النصرہ وغیرہ کے پاس اب زمین نہیں رہی، جب زمین نہیں رہی تو پھر بارگیننگ کس بات پر؟آپ نے دیکھا کہ انہوں نے پہلے لبنانی فوج کو اربوں ڈالر اور اسلحہ کی مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد کہا کہ لبنانی حکومت، فوج اور لبنانی ریاست حزب اللہ کی تقویت کا باعث ہیں، اس لئے ان کو ہم مدد نہیں دیں گے، جب تک یہ حزب اللہ کو دہشت گرد ڈکلیئر نہیں کرتے۔ یعنی حزب اللہ جس نے لبنان کو بچایا ہے، وہ دہشت گرد ہیں اور داعش جن کو انہوں نے Create کیا وہ ان کے ہیروز ہیں، اس صورتحال میں انہوں نے ابھی جو جنگی مشقیں کی ہیں، اس پر جتنا پیسہ خرچ کیا، وہ بھی آپ کے سامنے ہیں، ان کی اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ لہٰذا یہ ایک ایسے راہ حل کی تلاش میں ہیں، جس میں ان کی عزت بچ سکے اور کسی طرح سیاسی صورتحال میں وہ اس مقاومتی بلاک کے مقابلے میں ایک بارگیننگ پوزیشن حاصل کرسکیں، اس لئے یہ مذاکرات اور کانفرنسز کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو اللہ کیلئے کام ہوتا ہے وہ باقی رہتا ہے، جو ابلیس کیلئے ہوتا ہے بظاہر اس کا دب دبہ، اس کا شور شرابا نظر آتا ہے لیکن بہت کم عرصے میں اس کی ہوا نکل جاتی ہے اور سعودیوں، امریکیوں اور اسرائیلیوں کے ساتھ یہی ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ دیکھ لیں کہ ان کی قسمت میں مزید ذلت و رسوائی آئے گی، فائدہ ان کو نہیں ملے گا اور خطے میں ان کے جو تمام اہداف ہیں، ان میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔