ایکنا نیوز- سحرٹی وی -عراق کے سیکورٹی ذرائع کے مطابق عراقی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے مغربی صوبے الانبار میں جاری فوجی آپریشن کے دوران ہیت کے نواح میں واقع البکر ٹاون میں دہشت گردوں ایک ٹھکانے کو تباہ کردیا جس کے نتیجے میں داعش کا خودکش بمبار تیار کرنے کا ماہر اسماعیل ساطوری ہلاک ہوگیا۔ اس حملے میں کم سے کم چار خود کش بمبار بھی مارے گئے ہیں۔ اسماعیل ساطوری اس اڈے میں خودکش حملوں کی تربیت اور خود کش بمبار تیارکرکے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے لیے بھیجا کرتا تھا۔
دوسری جانب عراقی فوج اور عوامی رضاکا فورس کے جوانوں نے صوبے الانبار میں مکرالنوام کی سرحدی چوکی کو کار بم دھماکے سے تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔کہا جارہا ہے کہ دہشت کردوں کا ایک گروپ بارود سے بھری ایک گاڑی کے ذریعے مکرم النوام کی چوکی پر حملہ کرنا چاہتا تھا تاہم عراقی فوج اور عوامی رضاکارو دستوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ گاڑی کو فائرنگ کرکے تباہ کردیا۔اس دوران دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں کم سے کم نو دہشت گرد مارے گئے۔
عراقی سیکورٹی فورسز نے الانبار کے صدر مقام الرمادی کے شمال مغرب میں واقع علاقے السفیر کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔ اس علاقے کی آزادی کے بعد ہزاروں محصورعراقیوں کو دہشت گردوں سے چھڑا لیا گیا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مختلف کاروں میں نصب کئی بموں کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔
عراقی عوامی رضاکاروں نے صوبے صلاح الدین میں الدجیل اور علاس نامی تیل کے کنوؤں پر داعش کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے پینتالیس دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔