واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق اور شام میں موجود عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش میں شامل ہونے والے نئےدہشتگردوں کو پرانے دہشتگردوں کے مقابلے میں آدھی تنخواہیں دی جا رہی ہیں جبکہ بعض شعبوں میں کام کرنے والے داعش کے دیگر دہشتگردوں کو کئی مہینوں سے تنخواہیں بھی نہیں ملی ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے امریکہ کی انسداد دہشت گردی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو شہری داعش کے لیے کام کرتے ہیں انھیں تنخواہیں نہیں دی جاتی ہیں۔
واضح رہے ایران پر سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد عالمی دنیا کی جانب سے ایران کی جانب معاشی جھکائو کے باعث آلِ سعود شدید تنائو کا شکار ہیں۔اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے حفاظت اور تکفیری دہشتگردوں کو پالنے والے سعودی بخشو کا حال بے حال ہوگیا ہے۔اسکے علاوہ حالیہ مہینوں کے دوران داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں تیل کی پیداوار اور اسمگلنگ میں ایک تہائی کمی آ گئی ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت کم ہونے کے بعد داعش کی تیل کی اسمگلنگ اور فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔