جب ان سے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے ملک میں داعش کی موجودگی کی تردید کے حوالے سے سوال کیا گیا تو جنید شیخ نے کہا کہ عسکریت پسند نظریاتی طور پر داعش سے منسلک اور صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں موجود تنظیم سے جڑے ہوئے تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ 'یہ عسکریت پسند لشکرِ جھنگوی، تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ سے منسلک رہ چکے ہیں، لیکن اب یہ داعش میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق، مجاہد نے بعد میں مدرسہ بیت الاسلام عزیز آباد میں داخلہ لیا جہاں اس کی ملاقات عسکریت پسند ضیاء الرحمٰن سے ہوئی۔
ضیاء نے مجاہد کو جہاد کی ٹریننگ اور اس کے بعد عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے آمادہ کیا۔
گلشنِ بونیر کا رہائشی ضیاء الرحمٰن، اگست 2015 میں داعش کے رہنما ازبک شہری عثمان غازی کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے قبل القاعدہ سے منسلک تھا۔
وہ موبائل فون بعد میں مجاہد سے سہیل عرف مہاجر نے لے لیا اور اسے دوسرا "ہواوے" موبائل دیا جس سے وہ رابطے میں رہے۔
سی ٹی ڈی دستاویزات کے مطابق جولائی 2015 میں مجاہد نے ضیاء الرحمٰن کے ساتھ تربیت کے لیے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے علاقے وادھ کا دورہ کیا ۔
دستاویزات کے مطابق، 'وادھ سے مجاہد کو 12-10 عسکریت پسندوں کے ساتھ پہاڑوں کے بیچ کہیں موجود تربیتی کیمپ لے جایا گیا'.
بلوچستان میں 2 ہفتے قیام کے بعد وہ کراچی واپس آگیا اور سہیل عرف مہاجر سے قریبی تعلقات قائم کیے جس نے ایک ملاقات میں مجاہد کو 7000 روپے دیئے تھے۔
اگست 2015 میں سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق کامران عرف موٹا، مجاہد اور کچھ افراد کو ساتھ لے کر بلوچستان کے علاقے وادھ پہنچ گیا، جہاں انہوں نے داعش میں شمولیت کا عہد کیا۔
اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 'بابا جی' کے نام سے مشہور ایک اور عسکریت پسند نے داعش کے ساتھ اختلافات پیدا کیے اور معاذ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا،جو حاجی صاحب کے گروہ سے منسلک تھا ۔
سی ٹی ڈی دستاویزات میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کی شمالی وزیرستان ایجنسی ،میران شاہ اور وادھ بلوچستان میں یہ کہہ کر "برین واش" کی جاتی تھی کہ 'یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امریکا کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اور ان کے خلاف لڑنا جہاد ہے'.
اُس نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل نہیں کی اور وہ بھنگ کاعادی تھا، تاہم 2008 میں اس کی زندگی میں اُس وقت تبدیلی آئی جب وہ اپنے کزن رب نواز سے ملا، جو تحریکِ طالبان سوات (ٹی ٹی ایس) سے منسلک تھا۔
اس کے بعد وہ ضلع مالاکنڈ میں بٹ خیلہ آگیا، جہاں اس نے ٹی ٹی ایس کیمپ میں تربیت حاصل کی ۔ 2009 میں سیکیورٹی فورسز نے اس کیمپ پر حملہ کیا، لیکن عسکریت پسند بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی سال عبداللہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے دوران 2 عسکریت پسند رضوان اور عمر مارے گئے۔
سیکورٹی فورسز نے عبداللہ کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن وہ اس وقت اپنے گھر پر موجود نہیں تھا۔ بعد میں اس نے اپنا آبائی شہر چھوڑدیا اور خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگیا۔