ایکنانیوز- العالم چینل کے مطابق سعودی اخبار عکاظ میں عبداللہ الرشید لکھتا ہے : رسول اکرم (ص)کے بعد بہترین بندے کے عنوان سے کسی مہدی منتظر کا وجود نہیں اور اس موضوع کو قطر کے سابق مفتی اعظم اور شرعی عدالت کے چیف جسٹس شیخ عبدالله بن زاید آل محمودنے اپنے رسالے میں واضح کردیا ہے۔
رایٹر لکھتا ہے
کہ اسکے باجود مجموعی طور پر اهل سنت اور شیعہ حضرات امام مهدی (عج) کے ظہور پر
یقین رکھتے ہیں اور مهدی (عج) پر عقیدے کو
واجب قرار دیا گیا ہے
قطری مفتی اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی رایٹر لکھتا ہے کہ ۱۴۰۰ هجری
کا واقعہ امت پر مہدویت کو غالب کرنے کی کوشسش کے نتیجے میں پیش آیا۔
وہ لکھتا ہے کہ صرف رساله آل محمود عقیدہ مهدویت کے خلاف نہیں بلکہ دیگر اہم رسالے موجود ہیں جنکا بعد میں ذکر کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ سال ۱۴۰۰ ق میں ایک سلفی –وہابی شیخ جُهیمان نے ایک
شخص بنام محمد عبدالله قحطانی کا مہدی قرار دیتے ہوئے مسجد الحرام میں قیام کیا
اور ایک ہفتے تک جاری رہنے والے جدوجہد میں درجنوں افراد ہلاک اور کئی دیگر کو تختہ
دار پر لٹکایا گیا۔