ایکنا نیوز- اینا نیوز کے مطابق گذشتہ سال منا واقعے میں سعودی نا اہلی اور ذمہ داری قبول نہ کرنے کے بعد ایران – سعودی تعلقات میں ایک نیا موڈ آگیا ہے بالخصوص سعودی ائیر پورٹ پر دو نوجوان ایرانی باشندوں کے ساتھ نا شایستہ سلوک کو دیکھتے ہوئے ایرانی حج و زیارت حکام نے ایران حجاج کی عزت و احترام اور مناسب سیکورٹی کا تقاضا کیا تھا۔
سعودی حج حکام ایرانی تقاضوں سے لاتعلق تہران کو حج مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ حج کے موقع پر دعائے کمیل اور مشرکین سے اظھار برات قابل قبول نہیں !
اسلامی تنظیم آیسسکو کے ڈائریکٹر «عبدالعزیز بن عثمان التویجری» نے اپنے بیان میں سعودی رویوں کا ذکر کیے بغیر جانبدارانہ موقف میں کہا ہے کہ ایران حج کو سیاسی کشمکش میں تبدیل نہ کرے !
التویجری نے مشرکین سے اظھار نفرت کے قرآنی حکم کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر حجاج ڈسٹرب اور بعض لوگوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں ۔
آیسسکو سربراہ نے مکہ میں اسلامی آثار مٹانے پر توجہ کیے بغیر سعودی تعمیراتی منصوبوں کو زائرین کی سہولت سے تشبیہ دیا ہے۔