ایکنا نیوز سے گفتگو میں شام سے تعلق رکھنے والا قرآنی ماہر رضوان درویش نے اس سال کے قرآنی مقابلوں کو گذشتہ سال سے بہتر قرار دیا.
شامی جج نے مقابلوں میں بصارت سے محروم حفاظ کی شرکت اور مقابلے کو ایک نیا آئیڈیا قرار دیا اور کہا کہ ایران نے اس اقدام سے دنیا بھر کے نابینا حفاظ کا دل جیت لیا ہے
رضوان درویش نے مقابلوں مین نظم و ضبط اور انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قرآنی مقابلوں کا دیگر ممالک سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں.
شامی جج نے قرآنی مقابلوں میں «ایک کتاب، ایک امت» کو بجا اور مناسب اور اس نعرے کو وقت کا تقاضا قرار دیا
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت حفاظ اور مفسروں کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ درست اسلامی اور قرآنی تعلیمات کو عام کریں اور بالخصوص تکفیری گمراہ افکار کے خلاف دوستی ، محبت اور امن کے پیغامات پھیلانے کی کوشش کریں.