ایکنا نیوز- تہران میں جاری قرآنی مقابلوں میں روس کی نمایندگی کرنے والے آیتالله ظریفی نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا : میں نے حفظ قرآن کا سلسلہ تیرہ سال کی عمر سے شروع کیا اور دو سال میں مکمل قرآن مجید حفظ کرلیا
ماسکو سے تعلق رکھنے والا چھبیس سالہ یونیورسٹی طالب علم نے کہا : میرا پہلا استاد میرے والد تھے انکے بعد میں نے مقامی قرآنی اساتذہ سے استفادہ کیا
انہوں نے کہا : میرے والد قاری اور میرے چار دیگر بھائی بھی حافظ قرآن ہیں ۔
ظریفی نے کہا کہ حفظ قرآن کے لیے میں کم از کم پانچ اور بعض اوقات دس گھنٹہ کام کرتا تھا
انہوں نے کہا : اب تک ملکی لیول پر چار بار مقام دوم حاصل کرچکا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ : بحرین، الجزایر اور تیونس مقابلوں میں شرکت کرچکا ہوں اور ایران میں قرآنی مقابلے سخت ہوتے ہیں
انہوں نے وحدت کو امت کے لیے لازم قرار دیتے ہوئے قرآنی مقابلوں کے عنوان کو بہترین قرار دیا
روسی حافظ قرآن نے مصر کے استاد محمد صدیق منشاوی، شیخ عبدالباسط محمد عبدالصمد اور استاد محمود خلیل الحصری، کو پسندیدہ ترین قراء قرار دیا اور کہا کہ انکی تلاوت وہ روزانہ سنتے ہیں
آیتالله ظریفی نے کہا کہ جب انسان قرآن توجہ سے سنتا اور فکر کرتا ہے تو اطمینان، آرام اور اس قدر انس محسوس کرتا ہے جو کسی طور دولت سے خریدنا ممکن نہیں۔
انہوں نے گفتگو کے آخر میں کہا کہ قرآنی حفاظ اور قراء کو چاہیے کہ قرآنی معانی پر غور و فکر کریں اور قرآنی پیغامات کو سوشل میڈیا پر جوانوں تک پہنچانے کی کوشش کریں جو ایک بہترین فرصت اور زریعہ شمار ہوتا ہے ۔