ایکنا نیوز- پندرہ شعبان یوم ولادت امام مہدی (عج) کے موضوع پر تہران یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے معروف مفسر قرآن حجت الاسلام محسن قرآئتی نے کہا کہ رسول کرم جو کروڑوں لوگوں کا محسن اعظم ہے انہوں نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ میری آل سے محبت ہی اجر رسالت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت کی ہدایت اور سعادت کا تقاضا ہے کہ آج بھی ہم انکا شکریہ ادا کریں اور انکی آل سے محبت کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج انکی آل میں کون ہے جو معصوم ہو اور جسکا شکریہ ادا کرنا انکی آل اور رسول اکرم کا شکریہ ادا کرنے کے برابر ہو ، انہوں نے کہا کہ واضح طور پر انکی آل میں امام مہدی ہی واحد فرد ہے جو معصوم اور امام برحق ہیں۔
محسن قرآئتی نے مزید کہا کہ محبت کا تقاضا اورپہلی شرط معرفت ہے یعنی انکی پہچان ، پھر ان سے محبت اور اطاعت کو اجر رسالت قرار دیا جاسکتا ہے ۔
محسن قرآئتی نے خطاب کے آخر میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا جو پیش خدمت ہے۔
« چند سال پہلے میں مدینہ منورہ میں تھا اور نیمہ شعبان کی رات تھی میں المہدی کے نام سے ایک ہوٹل میں بیھٹا کھانا کھارہا تھا اچانک دل میں خیال آیا کہ قرآئتی آج پندرہ شعبان کی رات ہے اور اس مناسبت سے کچھ خیر کا کام انجام دینا چاہیے۔ میں نے سوچا کیوں نہ اس ہوٹل کے نیچے واقع دکان سے کچھ شرٹ خرید کر اسی ہوٹل کے باورچی اسٹاف میں تقسیم کروں تاکہ عید شعبان پر انکو خوش کرسکوں۔
لیکن اچانک مجھے یاد آیا کہ میرے پاس اس وقت کوئی رقم نہیں اور میں شرٹ نہیں خرید سکتا ، یہ جان کر مجھے مایوسی ہوئی اور میں سوچ میں پڑگیا ۔
تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ اچانک ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا جناب قرآئتی ایک درخواست ہے آپ سے۔
میں نے کہا فرمائیے ۔
کہا کہ اگر ہوٹل کے باورچی آپکے پاس آئے اور آپکا شکریہ ادا کریں تو آپ نہ کہیں کہ کس بات کا شکریہ ۔ کیونکہ میں نے عید شعبان کی مناسبت سے اس ہوٹل کی دکان سے کچھ شرٹ خرید کر ان میں تقسیم کیاہے اور دل میں آیا کہ اگر اپنی جانب سے تقسیم کروں تو یہ زیادہ خوش نہ ہوں گے لہذا میں نے ان سے کہا کہ یہ شرٹ محسن قرآئتی کی جانب سے آپکو دیے رہاہوں۔
محسن قرآئتی کا کہنا ہے کہ میں نےفورا دل میں کہا ، اے امام زمانہ آپ کسقدر باخبر ہے دلوں سے ۔ کیسے اسی لمحے اس شخص کے دل میں یہ خیال آیا کہ اس نے اسی دکان سے اور وہ بھی شرٹ خریدا اور کیسے اسی ہوٹل کے باورچی اسٹاف میں تقسیم کرنے کا خیال اسکے دل میں آیا ؟»
محسن قرآئتی نے کہا کہ امام دلوں سے باخبر ہیں اور حدیث کے مطابق امام زمانہ ہر روز سو بار اپنے چاہنے والوں کے لیے دعا فرماتے ہیں ۔