ایکنا نیوز- انگلش اخبار «اینڈیپنڈنٹ» لکھتا ہے : جدید سروے سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں مسلمان خواتین جاب پر اور کام پر سلیکشن کے سلسلے میں سخت مشکلات سے دوچار ہیں جنمیں جنسی اور مذہبی حوالے سے تعصب سرفہرست ہے.
رپورٹ کے مطابق مسلمان خواتین پر اسلام فوبیا کے اثرات کے حوالے سے سروے کیا گیا جسکا مقصد نسل پرستی اور مسلکی تنگی نظری (Faith Matter) سے مقابلہ تھا.
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مسلمان خواتین اعلی تعلیمی کیریر کے باوجود غیر مسلم خواتین کی بہ نسبت جاب ڈھونڈنے میں زیادہ ناکام رہی ہیں
اکثر مسلمان خواتین سے جاب انٹرویو میں جان بوجھ کر شادی اور بچہ پیدا کرنے کے حوالے سے سوالات پوچھے جاتے ہیں
اور اکثر فیکٹری مالکان جاب کے حوالے سے شادی اور اولاد کی پیدایش کو مشکلات قرار دیکر مسلمان خواتین کو سلیکٹ کرنے میں تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں.
تیرتالیس فیصد مسلمان خواتین کا خیال ہے کہ جاب میں ان سے متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے.
زبانی طعنے اور آن لاین دھمکیاں دیگر مشکلات میں شامل ہیں ۔
کام ڈھونڈنے کے علاوہ گھر آنے جانے اور تنخواہ وصولی کا مسلہ بھی ان امور میں قرار دیا جاسکتا ہے۔