گذشتہ روز تہران نے کہا تھا کہ رواں سال ایرانی شہری حج نہیں کرسکیں گے اور ساتھ ہی ریاض پر الزام لگایا تھا کہ وہ 'اللہ کی جانب جانے والے راستے سے انھیں روک رہا ہے'۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہر سال دنیا کے 70 ممالک سے حج یادداشتوں پر دستخط کرتا ہے، جس کا مقصد 'حاجیوں کی سیکیورٹی اور تحفظ کی یقین دہانی' کروانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ رواں سال کیلئے ایران نے مذکورہ یادداشت پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اور ریاض پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور فضائی رابطہ منقطع ہونے کے باوجود وہ ایرانی حاجیوں کو سفری سہولیات فراہم کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'اگر یہ سب اقدامات اور طریقہ کار کے حوالے سے ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے اپنے فرائض سے زیادہ کررہے ہیں'۔
یاد رہے کہ مذکورہ معاملے کے حل کیلئے ایرانی وفد نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تاہم اس معاملے میں ڈیڈ لاک تاحال قائم ہے۔
ایران کی جانب سے زور دیا جارہا ہے کہ سعودی عرب، تہران میں موجود سوئس سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے، جو رواں برس جنوری سے سعودی سفارت خانے کی بندش کے بعد سے سعودی عرب کے معاملات دیکھ رہا ہے۔
دوسری جانب ایک بڑا مسئلہ حجاج کی سیکیورٹی بھی ہے کیونکہ گذشتہ برس حج کے دوران منیٰ میں بھگڈر مچنے سے جان کی بازی ہارنے والے 2 ہزار غیر ملکی حجاج میں سے 464 حجاج ایران سے تھے۔