ایکنا نیوز- عالم اسلام کے عظیم اور بے مثال لیڈر حضرت امام خمینی کی آج برسی منایی جارہی ہے ۔ تہران میں ہونے والے اجتماع سے رہبر معظم سمیت اعلی حکام شرکت کریں گے۔
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
بلاشبہ امام( رح) کی شخصیت کا دنیا کے کسی بھی رہنماسے موازنہ نہی کیا جاسکتا، صرف انبیاء اور آئمہ معصومین کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتاہے ۔ وہ ان ہی کے شاگرد تھے یہی وجہ ہے کہ( امام خمینی کا) دنیا کے کسی بھی لیڈر کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
امام خمینیؒ کی عظمت و شخصیت ایک ایسے پہاڑ کی مانند ہے کہ جس کی چوٹی تمام بلندیوں کو سرکرتی ہو، وہ عرفان کی بلندیوں پر ایسے فائز تھے کہ ان تک دسترس حاصل کرنا مشکل ہے اس کے باوجود وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہیں تھے۔ آپ کی ہمہ جہت شخصیت وکمال تک پہنچنے کے لئے ہمارے پاس طاقت کہاں؟ اور ہماری کوتاہ فکرہمیں اس بات کا احساس عجز دلاتی ہے کہ ہم آپ کے وجود کی گہرائیوں تک پہنچ سکیں۔آپ کی ذات گرامی عظیم الشان رفعتوں اور عظمتوں سے بھی بلند و بالا تھی جتنا جنتا جس کے ظرف کی وسعت تھی اتنا ہی اس نے اس دریائے حکمت و معرفت سے حاصل کیا ہے۔وہ ایسے اعلیٰ کردار کے مالک تھے کہ ان کے دل میں محبت الٰہی کی شمع روشن تھی سب کچھ رکھنے کے باوجود ان کی زندگی ایک سادہ ترین انسان کی سی زندگی تھی۔ ان تمام مرحلوں میں آپ کے طرز زندگی میں ذرہ بھر فرق نہ آیا بلکہ جوں جوں وسائل ملتے گئے آپ کے زہد و تقویٰ میں اور اضافہ ہوتا گیا آپ نے ہمیشہ ہی انسانی خدمت اور دین الٰہی کے احیاء و بقاء کے لئے کام کیا جو بھی ہاتھ میں آیا مستحقوں کو دے دیا۔
امام خمینی ایک کامل انسان اور اسلام کے عظیم رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند مرتبہ فقیہ ، اصولی،فلسفی، عارف اورمربی تھے۔امام خمینی نے اپنے دور کے ظالم اور جابر حکمرانوں کو للکارا اور ان کے قائم کئے گئے ظلم کے نظاموں کو چیلنج کیا ،امام خمینی نے ہمیشہ ہر مظلوم کی حمایت کی اور ہر ظالم و جابر کے خلاف قیام کیا ،امام خمینی کی عظیم شخصیت کی برکات کے نتیجے اور اسلامی اصولوں پر پابندی کے سبب ہی ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا جو آج تک امام خمینی کے نائب حضرت امام خامنہ ای کی قیادت میں منزلوں کو طے کرتا ہوا ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔
آپؒ نے ملت ایران کو اغیارکی قید سے نجات دلائی اور ان کو سر مایۂ صد افتخار ، لطیف شخصیت اور خود اعتمادی عطا کی۔ اُس وقت جب تمام سیاسی طاقتیں دین کو مٹانے کی کوشش میں مصروف تھیں، آپؒ نے ایسے نظام کو قائم کیا جس کی بنیاد صالحیت اور اخلاقی اقدار پر تھی۔
امام خمینی ؒ جیسے حکیم اُمت رہنما نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نہ فقط مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے درمیان وحدت ویکجہتی کا جو ایجنڈا اُٹھایا ہے ،اُس سے اُن کے گہرے دینی مطالعے اور بلند معاشرتی شعور کی عکاسی ہوتی ہے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مُشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا