
ایکنا نیوز- آسٹریلیا کے شہر«سڈنی» کے امام بارگاہ پیغمبر اکرم(ص) کے متولی «حسین دیرانی» نے سعودی شرایط کو ایرانی حجاج کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ قرار دیا۔
انہوں نے ایرانی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں سعودی شرایط کو ناقابل قبول جانتے ہوئے کہا کہ آل سعود اپنی تنگ نظرانہ تکفیری سوچ اور افکار کے ساتھ حج کے مراسم اور مناسک کو ادا کرانا چاہتی ہے نہ کہ سنت ابراھیمی کے طرزپر۔
حسین دیرانی نے آیت ۲۷ سوره حج «وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہماری ایک اہم ضرورت اور ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آل سعود کے چنگال سے مکہ و مدینہ کے انتظامات کو نکال کر اسلامی ممالک کے زیر انتظام لانے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ آل سعود من پسند افراد کو حج کی اجازت دیتی ہے اور جنکو پسند نہ کریں اسے حج سے روک دیتی ہے اور حج سے سیاسی مقصد کے لیے استفادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے
دیرانی کا کہنا ہے کہ اس وقت مکہ و مدینہ کے لیے اصل خطرہ آل سعود کی تکفیری سوچ ہے جو رسول اکرم اور دیگر مقدس ہستیوں کی زیارات پر جانے کوحرام قرار دیتی ہے اور سال ۱۹۲۶ میں اسلام دنیا کا ردعمل نہ ہوتا تو آل سعود کے حکام رسول اکرم کے مزار کو مٹی میں مل چکا ہوتا اور یہ وہ لوگ ہیں جو حتی حجر الاسود کو بیکار پتھر قرار دیتے ہیں اور ابوبکر البغدادی کے توہین بیانات اس بات کے لیے کافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آل سعود کی حکومت خوف کی علامت بن چکی ہے جہاں نام نہاد « امر به معروف و نهی از منکر» کمیٹی کے ارکان حجاج کو گالی نکالتے ہیں اور انکی توہین کرکے شرک و بدعت کا راگ الاپتے ہیں۔
دیرانی نے حدیث نبوی «ومن دخل البيت الحرام فهو آمن»(جو بیتالله الحرام میں داخل ہوا انکے لیے امن ہے ) کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اب خانہ امن «ومن دخل البيت الحرام فهو مهدد بالقتل والتكفير والاذدراء» خانہ خوف و خطر اور خانہ تکفیر میں بدل چکا ہے
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال بدانتظامی کے نتیجے میں سینکڑوں ایرانی حجاج کی ہلاکت کے بعد ایران نے بہتر انتظامات اور سیکورٹی کا مطالبہ کیا تھا جنکو رد کرتے ہوئے سعودی حکام نے ایرانی حجاج کو فریضہ حج کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔